‫‫کیٹیگری‬ :
08 July 2018 - 22:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436541
فونت
حجت ‌الاسلام والمسلمین طائب :
حوزہ علمیہ قم کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : خداوند عالم نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کی حالات کو بدل دیا ہے اور وہ لوگ جو چاہتے تھے کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کے ذریعہ شام سے ہم کو دور کر دیں اور اس کا مقصد یہ تھا کہ شام سے ہم لوگوں کو واپسی کا راستہ ریکھائیں لیکن وہ لوگ ایسا نہیں کر سکے ۔
حجت ‌الاسلام والمسلمین مهدی طائب

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کے مشہور و معروف استاد حجت‌ الاسلام و المسلمین مهدی طائب نے اپنی ایک تقریر کے درمیان امریکا اور اسرائیل کی اسلامی نظام ایران سے مسلسل دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ملک میں پائی جانے والی عمدہ مشکلات دشمنوں کی سازش کی وجہ سے پیش آ رہی ہے ۔

انہوں نے دشمنوں سے مقابلہ کے طریق کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : قرآن کریم کہتا ہے سب سے پہلے بنیاد اس پر بناو کے مشکلات و سختی برداشت کرنی ہے اور بہشت سختی و مشکل کے ساتھ حاصل ہوگی ؛ جیسا کہ اقتصادی مشکلات ، شعب ابی طالب علیہ السلام کی طرح کہ بچے بھوک کی وجہ سے گریہ و زاری کرتے تھے ۔

حجت ‌الاسلام و المسلمین طائب نے اس بیان کے ساتھ کہ اسلام کے راہ میں جسمی نقصانات ، شہید دینا اور مجروح و قیدی ہونا ایک دوسرے اخراجات ہیں کہ ہم لوگوں کو یہ ادا کرنا چاہئے ، بیان کیا : ان تمام حالات کے با وجود ہم مسلمانوں کو دشمن کے مقابلہ میں سستی نہیں کرنی چاہیئے ۔

انہوں نے وضاحت کی : قرآن کریم میں تین جگہ تاکید ہوئی ہے کہ سستی سے کام نہ لیا کرو ؛ سورہ مبارکہ آل عمران ، سورہ مبارکہ نساء کی آیت ایک سو تین اور سورہ مبارکہ محمد کی آیت پیتیس میں تاکید کی گئی ہے کہ اسلام کے دشمنوں کے درمیان تنازعہ میں سستی سے کام نہ لیا کرو ۔

حجت ‌الاسلام و المسلمین طائب نے اس بیان کے ساتھ کہ انسان کی سستی کی وجہ زیادہ مشکلات و سختی اور نتیجہ حاصل نہیں ہونا ہے بیان کیا : یہاں تک کہ اپنے تحصیل علم و تبلیغ میں بھی یہی وجوہات سستی کی وجہ ہیں ۔

انہوں نے بیان کیا : یا بعض بخشوں میں جیسے اس وقت پانی کے لئے جو مشکل میں مبتلی ہوئے ہیں وہ ملک میں موجود ہونے کی وجہ سے حل ہو رہی ہے لیکن اس پانی کو آئندہ کے لئے ایک جگہ اکٹھا کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لئے کچھ نہیں کر رہے ہیں کیوں کہ سستی و کاہلی اس کو انجام دینے کے لئے مانع ہو رہی ہے ۔

حجت ‌الاسلام و المسلمین مہدی طائب نے وضاحت کی : مزاحمت و مقاومت کو قوی کرنے کے لئے دوسرا موضوع یہ ہے کہ ہم لوگ خداوند عالم سے تین امید کرتے ہیں ، تین وعدہ جو خداوند عالم نے ہم لوگوں کو عطا کی ہے ان تینوں وعدہ کو اس نے عملی صورت میں انجام دی ہے ، ان میں سے ایک وعدہ یہ ہے کہ اگر خداوند عالم کی مدد کرو تو خداوند عالم بھی تمہاری مدد کرے گا ۔

انہوں نے اسلامی معاشرے میں الہی نصرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : خداوند عالم نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کی حالات کو بدل دیا ہے اور وہ لوگ جو چاہتے تھے کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کے ذریعہ شام سے ہم کو دور کر دیں اور اس کا مقصد یہ تھا کہ شام سے ہم لوگوں کو واپسی کا راستہ ریکھائیں لیکن وہ لوگ ایسا نہیں کر سکے ۔/۹۸۹/ف۹۷۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬