‫‫کیٹیگری‬ :
15 August 2018 - 22:19
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436886
فونت
سید حسن نصراللہ :
حزب اللہ لبنان کےسیکرٹری جنرل نے کہا اس وقت کوئی بھی فلسطینی شخصیت یا جماعت اس معاہدے کو قبول کرنےکےلیے تیارنہیں ہے۔
سید حسن نصراللہ

رسا ںیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اس مطلب کہ اس وقت اسرائیل کی سب سے بڑی آرزو(صدی کی ڈیل) کا معاملہ ہےتاکہ بیت المقدس کو اس حکومت کا دارالحکومت قراردیا جاسکے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس وقت کوئی بھی فلسطینی شخصیت یا جماعت اس معاہدے کو قبول کرنےکےلیے تیارنہیں ہے۔

حزب اللہ لبنان کےسیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے 33 روزہ جنگ میں کامیابی کی بارہویں سالگرہ کے پروگرام میں خطاب کےدوران اسلامی مزاحمت کی حمایت کرنے کی وجہ سےلبنانی صدور، فوج، انٹیلی جنس اداروں اور تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران اورشام کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اسلامی مزاحمت کی حمایت کی ہے۔ لہذا جس طرح ہم اس 33روزہ جنگ میں کامیاب ہوئے تھےعنقریب خطے میں ہونے والی جنگ میں بھی کامیابی حاصل کریں گے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ گزشتہ سات سالوں سے خطےمیں جو کچھ ہورہا ہے یہ بھی وہی 33روزہ جنگ کا حصہ ہے کیونکہ اس میں بھی انہیں اہداف کو مدنظرقراردیا گیا ہے۔

سید حسن نصراللہ نےکہا ہےکہ 33روزہ جنگ کا مقصد خطےمیں امریکی اہداف کو متحقق کرنا اورپورےعلاقے پرقبضہ کرنا تھا لیکن اس جنگ میں صہیونی حکومت کی شکست کے بعد یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہوگیا تھا۔ بنابریں 33 روزہ جنگ میں ہماری کامیابی، غزہ میں اسلامی مزاحمت کی کامیابی اورایران اورشام کی پائیداری اورمزاحمت کی وجہ سے امریکی منصوبہ خاک میں مل گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ امریکہ اوراسرائیل کو یہ توقع تھی کہ جنگ اورمحاصرے کی وجہ سے غزہ تسلیم ہوجائےگا لیکن پوری دنیا میں تن تنہا رہنے کے باوجود فلسطینی سرتسلیم خم نہیں ہوئے ہیں اوراس وقت اسرائیل کی ایک سب سے بڑی آرزو صدی کی ڈیل نامی معاملہ ہے تاکہ بیت المقدس کو اس حکومت کا دارالحکومت قراردیا جاسکے لیکن انشاء اللہ یہ معاہدہ بھی ناکامی سے دوچارہوگا کیونکہ آج فلسطین کی کوئی بھی شخصیت اورجماعت اس معاہدے پردستخط کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کےلیے تیارنہیں ہے۔ / ۹۸۸ /ن۹۷۶

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬