‫‫کیٹیگری‬ :
21 August 2018 - 15:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436940
فونت
حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل‘ بحرانوں‘ چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔
حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے عید الاضحی کے موقع پراپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ قربانی دیتے وقت دو امور کی طرف خصوصی توجہ رکھنی چاہیے ایک یہ کہ پیغمبران خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف سے اپنے رب کی رضا کی خاطر دی گئی قربانی کے اہداف کو سامنے رکھیں اور دوسرا یہ کہ قربانی کو فقط رسم تک محدود نہ رکھیں بلکہ قربانی جیسے نیک عمل کی روح کی طرف توجہ کریں کیونکہ ہماری قربانی کے جانور کا گوشت اور خون ہمارے خالق تک نہیں پہنچتے بلکہ ہمارا تقوی‘ ہماری نیکی اور ہمارا اخلاص بارگاہ ایزدی میں قبولیت پاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر قربانی کے پس منظر میں اس زمانے کے حالات کے پیش نظر تمام انسانوں کے لئے مختلف اسباق مضمر ہوتے ہیں حالانکہ یہ اسباق واضح ہوتے ہیں لیکن عام لوگ ان اسباق کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ یہی معاملہ قربانی اسماعیل جیسے واقعات کے ساتھ ہوا اور ہورہا ہے بالخصوص مسلم معاشروں کا المیہ یہی رہا ہے کہ وہ فروعی معاملات اور رسوم و رواج اور سطحی نوعیت کے اقدامات کو اہمیت دیتے رہے ہیں لیکن قربانیوں کے مقاصد اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

حجت الاسلام ساجد نقوی نے کہا کہ خلقت آدمؑ سے لے کر اب تک انبیاء و رسل ‘ ائمہ اور خاصان خدا نے احکام خداوندی کی بجا آوری‘ شریعت اور دین کے نفاذ‘ نظریے کی صداقت اور موقف کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مختلف انداز سے قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی یہ لازوال قربانی انسانیت اور اسلام سے وابستہ لوگوں کے لئے اطاعت و ایثار کا عملی اور حسین نمونہ ہے تاکہ وہ اپنے مفادات‘ ذاتی خواہشات‘ غلطیوں‘ کوتاہیو ں اور خطاﺅں کو قربان کرنے کے بعد جانور کی قربانی کریں اور ان کے سامنے یہ نظریہ نہ ہو کہ خدا کے حضور ان کے قربان کردہ جانور کا گوشت پوست اور خون پہنچتا ہے بلکہ صدق و یقین سے یہ بات ان کے مدنظر ہونا چاہیے کہ قربانی تو ایک ذریعہ ہے لیکن اصل میں ان کا ہدف ان کی نیت‘ ان کا ایثار‘ خلوص اور جذبہ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے لہذا انہیں عید الاضحی مناتے وقت اور قربانی کرتے وقت اس خاص امر کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاءکرام‘ ائمہ معصومینؑ‘شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیلؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے ۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل‘ بحرانوں‘ چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔

قائد ملت جعفریہ حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے قائد اول علامہ سید محمد دہلوی کی برسی کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا ، ان کا مزید کہنا تھا کہ سید محمد دہلوی مرحوم برصغیر کے خطیب اعظم اور بلند پایہ عالم دین اور بے بدل قائد تھے جنہوں نے پرامن سیاسی اور جمہوری طرز احتجاج کی داغ بیل ڈالی اور اپنے مطالبات کو منطقی انداز میں پیش کیا اور پیرانہ سالی کے باوجود ملت کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔اس مشکل دور میں کم وسائل کے باوجود مسلسل اور انتھک محنت سے قوم کو شعور اور اتحاد کی نعمت کا احساس دلایا۔

حجت الاسلام ساجد نقوی نے مزید کہا کہ علامہ سید محمد دہلوی ؒ‘ علامہ مفتی جعفر حسین ؒاور علامہ عارف الحسینی شہید ؒ کی قیادت میں جو ملی و قومی حقوق کے دفاع اور تحفظ کی خاطر جو کارواں چلا تھا وہ آج بھی رواں دواں ہے اور ہم ان قائدین کی فکر سے الہام حاصل کرتے ہوئے باوجود بے شمار مسائل و مشکلات کے‘ نہ صرف ملی و قومی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے بلکہ ملک میں اتحاد و وحدت کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ترویج کے لئے ہمہ وقت مشغول ہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬