‫‫کیٹیگری‬ :
15 November 2018 - 20:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437660
فونت
مشہد میں عراقی سفارتخانہ کے قونصل جنرل نے کہا؛
مشہد میں عراقی قونصل جنرل نے بتایا: عراقی و ایرانی عوام کے مابین اختلاف و تفرقہ پھیلانے کی سازش ؛ اربعین حسینی کے شروع ہونے سے کئی مہینے پہلے شروع ہو چکی تھی۔
روضہ امام رضا علیہ السلام

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روضہ منورہ امام علی رضا علیہ السلام میں بروز سوموار عراقی اسٹوڈنٹس کا مشہد کی یونیورسٹیوں میں نیا سال شروع ہونے کی مناسبت سے ’’ایران و عراق کی عوام کا آپس میں اتحاد اور اربعین حسینی کے پیدل مارچ کی برکات وآثار‘‘ کے موضوع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔

اس تقریب میں عراقی قونصل جنرل جناب یاسین شریف نے اربعین حسینی کے پیدل مارچ میں شرکت کرنے والے لاکھوں زائرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمنوں کی جانب سے عراقی و ایرانی عوام کے مابین اختلاف و تفرقہ پھیلانے کی سازش ؛ اربعین حسینی کے شروع ہونے سے کئی مہینے پہلے شروع ہو چکی تھی حتی کہ عراق میں میں بہت سارے ایسے خاندان جن کے بعض رشتے دار ایران میں مقیم ہیں ان کے بارے میں پریشان تھے۔

انہوں نے عراقی طالب علموں کا ایران میں تحصیل علم کے لئے آنے کو جہاد علمی کا نام دیتے ہوئے کہا: جس طرح عراقی عوام نے داعش کے مدّ مقابل جہاد کیا ، آپ کا کام بھی علمی جہاد شمار ہوتا ہے۔

یاسین شریف کا کہنا تھا: اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف شہروں میں واقع عراقی کونسلیٹ ؛ تمام عراقی طالب علموں کی مشکلات حل کرنے کے لئے تیار ہیں اور حتی اس سلسلے میں یونیورسٹیوں کے سربراہان کے ساتھ ملاقتیں بھی کی گئی ہیں اور عراقی طالب علوں کو تحصیل علم کے لئے مناسب سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

آخر میں انہوں نے عراقی طالب علموں سے درخواست کی کہ ایسی دوستانہ محافل کو سوشل میڈیا پر نشر کریں تاکہ سب پر واضح ہو جائے کہ ایران و عراق کا آپس میں اتحاد ہرگز ختم نہیں ہو سکتا۔

کہا گیا ہے ؛ ’’سفیران رضوان‘‘ نامی بین الاقوامی کانفرنس جو کہ فقط عراقی طالب علموں کے لئے جو مشہد کی یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں مختص تھی اور ’’ عراقی و ایرانی عوام کا اتحاد اور اربعین پر پیدل مارچ کی برکات وآثار کی تحلیل‘‘کے موضوع پر ادارہ زائرین غیر ایرانی آستان قدس رضوی اور بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کی کاوشوں سے بروز سوموار آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ کے قدس ہال میں منعقد کی گئی۔ /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬