‫‫کیٹیگری‬ :
18 November 2018 - 19:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437677
فونت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ایران کے نمائندے نے سعودی نمائندے کی بکواس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمدن سے عاری مافیا سعودی نظام چلا رہی ہے جس نے اپنے وحشی پن کے ہتھیار کو اب تلوار سے آری میں تبدیل کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں سعودی عرب کے نمائندے عبد العلمی نے کینیڈا کی تجویز پر ایران میں انسانی حقوق کے موضوع پر تشکیل پانے والے اجلاس میں ایران کے خلاف مکمل زہر اگلنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ایران کے نمائندے نے سعودی نمائندے کی بکواس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے پاس اگر تھوڑی سی بھی غیرت ہوتی تو وہ خاموش رہتا اور کچھ بھی بولنے کی کوشش نہ کرتا اس لئے اسے تو ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر کچھ بولنے کا حق ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلوار کے بدلے آری سے وحشی گری کا ثبوت پیش کرنے والے ملک سے خیر کی کوئی توقع ہی نہیں رکھی جا سکتی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ایران کے نمائندے نے سعودی نمائندے کی بکواس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مغربی ایشیا میں جمہوریت کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق، سعودی عرب کے ان فاسد حمکرانوں کے دشمن ہیں جنھوں نے یمن میں اسکول بس تک کو نہیں چھوڑا اور داعش دہشت گرد گروہ کی یاد تازہ کر دی۔ ایرانی سفارت  کار نے کہا کہ داعش دہشت گرد گروہ سعودی انتہا پسندی کی ہی پیداوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش گروہ شام میں بچوں کو اغوا کرتا ہے اور اس گروہ کا بانی یمن میں بچوں کا قتل عام کرتا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں کا تعلق ایک ہی مکتب سے ہے اور دونوں کا نقطہ نظر کی بنیاد بھی ایک ہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ایران کے نمائندے نے سعودی نمائندے کی بکواس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں القاعدہ، طالبان، داعش اور تمام دہشت گرد گروہوں کا مکتب صرف وہابیت ہے جس کا سب سے بڑا ایک نمونہ یہ ہے کہ داعشی کمانڈروں کو جس کتاب کی تعلیم دی جا رہی تھی اس کا مصنف تکفیری نظریات کا مالک ایک سعودی ہی تھا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬