‫‫کیٹیگری‬ :
04 December 2018 - 23:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437829
فونت
آیت الله صدیقی:
شھر تہران کے عارضی امام جمعہ نے کہا: دنیا، الھی قوانین اور رسموں کی بنیاد پر ادارہ ہوتی ہے کہ ان رسومات و قوانین کی مخالف انسان کی نابودی اور بربادی کا سبب ہے ۔
آیت الله صدیقی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، شھر تہران کے عارضی امام جمعہ آیت الله کاظم صدیقی نے شرح صحیفہ سجادیہ کے عنوان سے تہران یونیورسٹی کی مسجد میں منعقد ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا: انسان کے اندر موجود سب سے بڑا خطرہ الھی قوانین کی مخالفت ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: تکوینی اور فطری ھدایت کی بنیاد پر پروردگارمتعال ، دنیا کا خالق اور اسے نظم و ضبط دینے والا ہے ، انسان الھی احکامات کی مخالفت کرکے اپنی نابودی اور ہلاکت کے اسباب فراہم کرتا ہے ۔

شھرتہران کے عارضی امام جمعہ نے تاکید کی: اگر کوئی قانون جاذبہ پر توجہ کئے بغیر خود کو چھت سے نیچے گرا دے یا میڈیکل کی نصیحتوں پر توجہ کئے بغیر زھیریلا کھانے کھائے تو یقینا ناقابل تدارک نقصانات سے روبرو ہوگا ، قانون گزاری اور تشریع کے میدان میں بھی کچھ ایسا ہی ہے ، قانون سے فرار معاشرہ نقصانات سے روبرو ہوگا ۔

انہوں نے مزید کہا: قانون ھدایت ہے اور معاشرہ پر حاکم قوانین ہمارے لئے ہدایت ہیں ، قوانین پر توجہ نہ کرنے والے اور بے توجہی دیکھانے والے یقینا نقصانات سے روبرو ہوں گے ، فوجی قوانین میں فوجیوں کی جنرلز اور کمانڈرز کی پیروی میں مملکت کی تقدیر جڑی ہوتی ہے ۔

آیت الله صدیقی نے بیان کیا: اگر ایک کمانڈر کے ماتحت افراد اس کے احکامات کی خلاف ورزی کریں تو وہ خود کی اور ملک ، دونوں کی نابودی کے اسباب فراہم کریں گے ، پروردگارعالم نے بھی انسانوں کی ہدایت کے لئے الھی سنت و رسومات کے عنوان سے قوانین بنائے ہیں ۔

انہوں نے اپنے بیان کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: دنیا الھی قوانین اور رسموں کی بنیاد پر ادارہ ہوتی ہے کہ ان رسومات و قوانین کی مخالف انسان کی نابودی اور بربادی کا سبب ہے جیسا کہ ایک فوجی کی اپنے مافوق اور کمانڈر کی مخالفت ملک کی نابودی کا سبب بنتی ہے ۔

انہوں نے آخر میں یاد دہانی کی: گھرانے اور خانوادہ میں بھی ایک آدمی ذمہ دار ہوتا ہے ، سماجی ، خانوادگی ، سیاسی و دیگر قوانین ، تمام کے تمام وہ مسائل ہیں جو انسان کی سعادت کا سبب بنتے ہیں اور ہرج و مرج کو روکتے ہیں ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۴

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬