‫‫کیٹیگری‬ :
25 March 2020 - 18:29
News ID: 442379
فونت
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان:
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر نے کہا: وفاقی وزیر تعلیم کی گذشتہ دنوں وزیراعظم کو بریفنگ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پہلی تا پانچویں جماعت کے اسلامیات کے نصاب میں وفاق المدارس الشیعہ کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے یا نہیں، حکومت اپنی نظر بیان کرے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید نیاز حسین نقوی نے واضح کیا ہے کہ پرائمری جماعتوں کے اسلامیات نصاب میں شامل کرنے کیلئے وفاق المدارس کی طرف سے دی گئی ختم ِ نبوت سمیت 15 تجاویز شامل نہ کی گئیں تو نصاب کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم شفقت محمود کی وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ سے لگتا ہے کہ علما کی تجاویز پر توجہ نہیں دی گئی اور حکومت زبردستی نصاب تعلیم مسلط کرنا چاہتی ہے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانچوں وفاق المدارس نے دینی امور پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور تجاویز دی ہیں تاکہ نصاب تعلیم کیلئے ان پر عملدرآمد کیا جائے۔ علماء سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ قومی نصاب کونسل کا نصاب وفاق المدارس الشیعہ کی سفارشات اور تجاویز شامل ہونے کی صورت میں ہی قبول کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دیگر مذہبی تنظیموں کی طرح وفاق المدارس الشیعہ نے بھی ختم ِ نبوت سمیت 15 تجاویز نصاب میں شامل کرنے کیلئے وزیر تعلیم اور متعلقہ شعبہ کو متعدد خطوط لکھے تھے۔ وفاقی وزیر تعلیم کی گذشتہ دنوں وزیراعظم کو بریفنگ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پہلی تا پانچویں جماعت کے اسلامیات کے نصاب میں وفاق المدارس الشیعہ کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔ حکومت فی الفور اس پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور یہ بات مدنظر رکھے کہ علما کو اعتماد میں لئے بغیر کسی بھی مسلط شدہ نصاب کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اتحاد تنظیمات مدارس نے نیک نیتی کیساتھ نصاب سازی اور نظر ثانی کے کام میں تعاون کیا تھا، حکومت نصاب کے حتمی مسوّدہ کے بارے اتحاد تنظیمات مدارس کو اعتماد میں لے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬