‫‫کیٹیگری‬ :
27 August 2013 - 22:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5848
فونت
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان:
رسا نیوز ایجنسی - اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام پر فوجی چڑھائی کے سلسلہ سے تشویش کا اظھار کرتے ہوئے کہا: شام میں شعلہ ور ہونے والی جنگ کی آگ کی پورے علاقے کو اپنے لپیٹ میں لے گی ۔
سيد عباس عراقچي

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزرارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے آج منگل کے روز ملکی اور بیرونی نامہ نگاروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں شام پر فوجی حملے کو پورے علاقہ کے کیلئے خطرناک جانا ۔


عراقچی نے یہ کہتے ہوئے اس وقت مشرق وسطی نازک حالات سے روبرو ہے اور اسے آرامش، مدارا اور احتیاط کی ضرورت ہے کہا: امید ہے کہ ھرگز ایسے اقدامات نہ کئے جائیں جو علاقہ کے بحرانوں میں شدت اور کنٹرول سے خارج ہونے کا سبب بنے نیز سنگین نتائج کا سبب بنے ۔


عراقچی نے یاد دہانی کی: اسلامی جمھوریہ ایران نے شام پر فوجی چڑھائی سے پرھیز کے سلسلہ میں پوری توانائی صرف کردی ہے اور سبھی کو ہماری تاکید ہے کہ شام کے سلسلہ میں سیاسی گفتگو کو اپنا شیوہ بنائیں ۔


ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ کہتے ہوئے جینوا 2 اجلاس کی برگزاری کے سلسلہ سے پوری کوششیں انجام دی جاچکی ہیں اور اس سلسلہ میں امریکی، روسی اور اقوام متحدہ کے منصب داروں سے ملاقاتیں بھی انجام پائی ہیں کہا: موجودہ حالات میں پہلے سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے ۔


انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ علاقہ کے حالات نہایت پیچیدہ اور متشنج ہیں کہا: سبھی اپنی سیاستوں اور موقف پر قابو رکھیں تاکہ حالات مزید بدتر نہ ہونے پائیں اور آگاہ رہیں کہ شام پر ہر قسم کے فوجی چڑھاو کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جس سے پورا علاقہ متاثر ہوگا ۔  


عراقچی نے یمن میں ایران ڈپلومیٹ کو اغوا کئے جانے کے سلسلہ میں کہا: وزارت خارجہ کی جانب سے روانہ کردہ وفد، اج سے اپنی فعالیتوں کا اغاز کرے گا اور امید ہے کہ بہت جلد اغوا شدہ ڈپلومیٹ کے بارے میں نئی خبریں موصول ہوں گی ۔


انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یمن گورمنٹ، ایرانی ڈپلومیٹ کی جان کی حفاظت کی ذمہ دار ہے کہا: ان سے ہماری درخواست ہے کہ اپنے کوششوں میں تیزی اور سنجیدگی لائیں کیوں کہ وقت کافی گذر چکا ہے ۔


ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نیتن یاہو کے بیانات کو مضحکہ اور بے اہمیت جانا اور کہا : اسلامی جمھوریہ ایران نے ایٹمی معاملات میں مربوطہ عالمی مراکز کا مکمل تعاون کیا ہے اور ایران میں ھرگز کیمیاوی ہتھیار موجود نہیں ہے جس کی عالمی مراکز نے بھی تائید کی ہے ، جب کہ غاصب صھیونیت خود کیمیاوی ہتھیار بنانے والوں میں سے ہے اور اس کی بنیادیں ہمیشہ قتل اور مرڈر پر استوار رہی ہیں ۔


عراقـچی نے واضح طور پر کہا: ہمیں یقین ہے کہ شام میں کیمیاوی ہتھار شام مخالفین نے کیا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ حادثہ اقوام متحدہ کے ناظروں کی موجودگی کے وقت انجام پایا ، کوئی بھی عقل مند اقوام متحدہ کے ناظروں کی موجودگی میں اس اقدام کو انجام نہیں دے گا کہ فورا رپورٹ منعکس ہوجائے ۔


انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تصویریں شامی دھشت گردوں کے اڈوں میں موجودہ کیمیاوی مواد کی بیانگر ہیں جن پر بعض ممالک کا نام قابل دید ہے کہا: روسیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دستاویز اور سیٹلائٹ فوٹوز پیش کی ہیں کہ یہ اسلحے شام مخالف دھشت گردوں کے علاقہ سے فائر کئے گئے ہیں ۔


عراقچی نے کہا: ہم علاقہ کی تمام حکومتوں من جملہ ترکی کی حکومت کو شام میں رونما ہونے والے واقعات کی بہ نسبت متنبہ کرتے ہیں کہ تمام حالات غاصب صھیونیت کے حق مفید ہیں ۔


انہوں نے ایک رپورٹر کے جواب میں ایران اور انگلینڈ کے باہمی تعلقات کے سلسلہ سے ایران کے صدر جمھوریہ حجت الاسلام و المسلمین روحانی کو انگلینڈ کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھیجے جانے والی مبارک باد کے خط کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ایران اور انگلینڈ کے باہمی تعلقات کے سلسلہ میں وقت درکار ہے اور اس پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے البتہ اگر شرائط محقق ہوئے تو پارلیمنٹ کی صلاحدید کے مطابق یہ روابط کاونسلر کی حد تک رہیں گے ۔


انہوں نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے جواب میں ، موجودہ بحرانی حالات میں علمائے اسلام کی عزت و آبرو کی حفاظت کے سلسلہ میں وزارت خارجہ کی تدبیروں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اس وقت عالم اسلام جس عظیم خطرہ سے روبرو ہے وہ عالم اسلام میں فرقہ پرستی اور قبائل پرستی ہے جو مختلف ممالک خصوصا مشرق وسطی؛ شام ، مصر، عراق ، لبنان اور بحرین میں رونما ہورہی ہے ، یہ عظیم ملت اسلامیہ کے خلاف غاصب صھیونیت کی سازش ہے تاکہ ملت اسلامیہ کو آپس میں لڑا کر اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کر سکے ۔


عراقچی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علمائے شیعہ کی توہین ھرگز برداشت نہیں کی جاسکتی گذشتہ دنوں عمان کے بادشاہ کی رھبر معظم انقلاب اسلامی سے ہونے والی ملاقات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اس طرح کے اقدامات فقط غاصب صھیونیت کے حق میں فائدہ مند ہیں ۔


انہوں نے اخر میں ایران کی گیارہویں گورمنٹ میں خاتون کو سفیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان کے عنوان سے منتخب کئے جانے کی خبر دی اور کہا: میں جناب مہمان پرست کے فیصلہ کے تحت وقتی طور پر وزارت خارجہ کا ترجمان تھا اور اب اپنی سابقہ ذمہ داریوں کی طرف پلٹ جاوں گا ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬