‫‫کیٹیگری‬ :
09 October 2013 - 14:54
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6042
فونت
رسا نیوز ایجنسی - سرزمین ایران کے عظیم شیعہ مرجع تقلید حضرت آیت الله وحید خراسانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہدایت میں اخلاص لوگوں کو مبلغ کی سمت کھینچتا ہے کہا: انسان ان لوگوں کی پیروری کرے جو اپنی خدمت کے ابتداء سے انتہا تک کسی اجر و انعام کے طلبگار نہیں ہوتے ۔
حضرت آيت‌ الله وحيد خراساني

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت‌ الله حسین وحید خراسانی نے اج صبح مسجد اعظم حرم مطھر حضرت معصومہ قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہونے والے تفسیر کے درس میں سورہ مبارکہ یاسین کی ایات کی تفسیر کی ۔


انہوں نے ایت «اتَّبِعُوا مَن لاَّ یَسْأَلُکُمْ أَجْرًا وَ هُم مُّهْتَدُونَ ،ان کا اتباع کرو جو تم سے کسی طرح کی اجرت کا سوال نہیں کرتے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں » کی تفسیر کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ہدایت میں اخلاص لوگوں کو مبلغ کی سمت کھنچنے کی شرط ہے اور لوگوں کو دین کی سمت بلانے والے ہرگز ان سے انعام و اکرام کا مطالبہ نہ کریں ۔


اس مرجع تقلید نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عوام کو ہدایت کرنے والے خود ہدایت یافتہ ہوں کہا: اس کی اطاعت کی جائے جو خود ہوائے نفس کا شکار نہ ہو ۔


عصر حاضر میں قران کریم کے اس مفسر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ نیک کاموں میں انسان رضایت خداوند متعال حاصل کرنے کے درپہ رہے کہا: کسی بھی کام کا انجام دینے والا اجر و انعام کا خواہاں ہے ، وہ مال و ثروت، مقام و منزلت یا چین و سکون کے درپہ ہوتا ہے ۔


حضرت آیت الله وحید خراسانی نے مزید کہا: لوگوں کی مشکلات کو برطرف کرنے والے کی ارزو یہ ہے کہ لوگ بھی اس کے بدلے اس کی مشکلات کو برطرف کریں اور اسے لوگوں کے درمیان کوئی مقام و منزلت مل سکے  ۔


انہوں نے قران کی کریم کی ایات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: انسان اس کی پیروی کرے جو ابتداء سے انتہا تک اپنی خدمتوں کے بدلے اجر و انعام کا طلبگار نہ ہو ۔


اس مرجع تقلید نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حضرت علی(ع) ایسے ہی تھے اور وہ اپنے کام بغیر کسی توقع کے اور خدا کی رضایت کے لئے انجام دیتے تھے کہا: مطلق‌الاجر نفس کا چین و سکون ہے ۔


قران کریم کے اس مفسر نے ایت شریفہ «اتَّبِعُوا مَن لاَّ یَسْأَلُکُمْ أَجْرًا وَ هُم مُّهْتَدُونَ ،ان کا اتباع کرو جو تم سے کسی طرح کی اجرت کا سوال نہیں کرتے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں » کی تفسیر میں یہ کہتے ہوئے کہ ایت میں اثبات و نفی دونوں ہی ہیں کہا: آیت کا اثبات « و هم مهتدون ، اور ہدایت یافتہ ہیں ہے» یعنی اس کی پیروی کرو جو خود مقصد تک پہونچ چکے ہوں ۔


حضرت آیت الله وحید خراسانی نے مزید کہا: «لاَّ یَسْأَلُکُمْ أَجْرًا، تم سے کسی طرح کی اجرت کا سوال نہیں کرتے ہیں » آیت میں نفی کا پہلو ہے یعنی جب لوگوں کی ہدایت کرو تو ان سے اجر و پاداش کے طلبگار نہ رہو  ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬