
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے اس اجتماع میں کہ جو بروز جمعہ آستان قدس رضوی کی لائبریری کے قدس ہال میں منقعد ہوا، خون شہدائے کربلا کو اسلام و احکام دین کو روشن اور زندہ کرنے والا قراردیا اور کہا: وہ پاک و پاکیزہ خون کہ جو روزعاشور بہایاگیا، اسلام کو زندہ ہونے اور بقیۃ اللہ الاعظم(عج) کے مبارک ہاتھوں کے ذریعہ احکام دین برپا کرنے کا سبب ہے ۔
انہوں نے زیارت اربعین کے ان مطالب کی طرف اشارہ کیا کہ جو معاشرے سے جہالت کو ختم کرنے کا سبب ہے ،کہا: حضرت امام حسین علیہ السلام کے خون نے ہمیشہ تاریخ میں معاشرے سے جہالت کو ختم کیا ہے اور کرتا رہے گا اور یہ اسلامی بیداری و بصیرت آفرینی کہ جو آج حضرت امام حسین علیہ السلام کے خون کی برکت سے انسانی معاشرے میں نظر آرہی ہے ، اس حقیقت پر گواہ ہے ۔
خبرگان رہبری کونسل کے رکن نے اس بیان کے ساتھ کہ واقعہ روز عاشورا تقریبا آدھے دن میں انجام پایا ، لیکن اسی مختصر وقت میں تاریخ انسانی کی خوبصورت ترین وبافضیت ترین کمال کو پیش کیا ہے اور اسی دن تاریخ کے بدترین و خبیث ترین کارنامے انجام پائے ،کہا: ایک طرف انسانیت پر ہولناک ترین ظلم و ستم اور ایسے جرائم کہ جو یہ انسان بدترین و تاریک ترین کارنامے انجام دے سکتا ہے،کربلا کی تاریخ میں واقع ہوئے اور دوسری طرف تمام کامیابیاں ، اخلاقیات، انسانی خوبصورت جذبات کہ جوانجام پاسکتے ہیں عاشورا کے نورانی صفحات پر رونما ہوئے۔
آستان قدس رضوی نے روز عاشورا کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا اور کہا:جو کچھ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تین سالہ بیٹی شام کے زندان میں اپنے بابا کے کٹے ہوئے سر سے گفتگو کے دوران فرماتی ہیں ، ظاہرا ایک چھوٹی سی بچی کی اپنے بابا سے باتیں ہیں لیکن حقیقت میں پوری انسانیت سے سوال ہے ۔ یہ سوال کرتی ہیں کہ کس نے اس کم سنی میں یتیم کردیا ہے ؟ کس نے آپ کے سر کو قلم کیا؟ یہ سوالات پوری انسانیت سے پوچھے گئے ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے سورہ مبارکہ حشر کی انیسویں آیت کی طرف اشارہ کیا«وَلاَتَکُونُواکَالَّذِینَنَسُوااللَّهَفَأَنسَاهُمْأَنفُسَهُمْ.»" آپ لوگ ایسے نہ بنو کہ جنہوں نے خدا کو فراموش کردیا اور خداوندعالم نے ان سے خود ان ہی کو بھی فراموش کرادیا ، کہا:خداوندعالم اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے مجھ کو فراموش نہ کرنا ورنہ انسانیت کو فراموش کردوگے اور یقینا ایسا ہی ہے ۔کیا انسان ۶ مہینے کے بچے کو باپ کی آغوش میں قتل کرسکتا ہے ؟فلسطین کے مظلوم لوگوں کے بچوں اور خواتین پر ۷۰ سال سے زیادہ ظلم و ستم کیا انسان انجام دے سکتا ہے ؟ اگر خدااور انسانیت سے خوف ہو کیا عراق و شام و یمن میں پیش آنے والے حوادث و جنایات واقع ہوسکتے تھے ؟ اسلامی انقلاب، روز عاشورا کی تحریک ہی کا ادامہ ہے
حوزہ علمیہ خراسان کی مجلس صدارت کے رکن نے اس تاکید کے ساتھ کہواقعہ عاشورا بیداری کو وجود بخشتا ہے ، کہا: گویا مشیت الہی یہ تھی کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا اصحاب واولاد کے پاک و پاکیزہ خون کے ذریعہ یہ کائنات بیداری و بصیرت حاصل کرے اور اسی وجہ سے ہم اسلامی انقلاب کو عاشورا کی تحریک کا ادامہ سمجھتے ہیں اور جو کچھ ان آخری دس سالوں میں اسلامی بیداری نظر آئی ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے عاشورا کی تحریک کو ہر روز زندہ اور پررونق ترقراردیا اور کہا: ہر سال اربعین کے اجتماع میں زیادہ تر لوگ خطرے کے احتمالات دیتے ہیں لیکن پھر بھی ہر سال یہ اجتماع بڑھتا ہی جارہا ہے اور اربعین کا پاپیادہ جلوس پر رونق تر ہوتا جارہا ہے ۔ یہی روزعاشورا کی بصیرت افزائی ہے ۔
انہوں نےحضرت امام حسین علیہ السلام کی" ھیھات منا الذلۃ "کی فریاد کوہمیشہ تاریخ میں زندہ و جاوید رہنے والی قراردیا اور کہا: جو لوگ امام حسین علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہیں وہ سال و ماہ اور صدی میں محدود نہیں ہیں، یہ پیغام تاریخ کے کسی مکان و زمان تک محدود نہیں ہے۔آج بھی یہ پیغام مقام معظم رہبری کی زبان پر جاری ہے کہ جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزندہیں۔ اور جو لوگ دنیا کے کونے کونے سے آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہیں یہی انسانی کرامت اور حیات طیبہ میں مددگار ہیں ۔
آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے کہا :آج جن لوگوں نے شیخ عیسی قاسم کو ان کے وطن سے نکال دیا ہے حقیقت میں کرامت انسانی کو خدشہ دار کیا ہے اور ان لوگوں کی توہین ہے کہ جو انسانیت کے پرچم کے علم بردار ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے آخر میں آل سعود و آل خلیفہ کو روز عاشورا کے یزیدی لشکر کا ادامہ قراردیا اور کہا: آج اہل بیت علیہم السلام کی راہ کا تسلسل اسلامی ایران، شمالی افریقہ، یمن، شام، عراق اور دوسرے اسلامی ممالک میں نظرآرہا ہے اور یہ وہی تاثر اور نتیجہ ہے کہ جو حضرت امام حسین و جناب علی اصغر علیہما السلام کے خون پاک سے سامنے آیا ہے ۔