‫‫کیٹیگری‬ :
07 January 2017 - 12:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425539
فونت
حجت الاسلام عباسی نے اطلاع دیا:
جامعة المصطفی العالمیہ میں شعبہ تحقیقات کے ذمہ دار نے جامعة المصطفی العالمیہ کی پوری دنیا خصوصا یورپ میں انجام پانے والی فعالیتوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: جامعة المصطفی العالمیہ ۶۵ ممالک میں فعالیتں انجام دیتا ہے ۔
حجت الاسلام علی عباسی


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ مطابق، جامعة المصطفی العالمیہ میں شعبہ تحقیقات کے ذمہ دار حجت الاسلام علی عباسی نے گذشتہ دنوں حضرت آیت الله مکارم شیرازی سے ملاقات میں جامعة المصطفی العالمیہ کی پوری دنیا خصوصا یورپ میں انجام پانے والی فعالیتوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: جامعة المصطفی العالمیہ 65 ممالک میں فعالیتں انجام دیتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: یورپ کے بہت سارے ممالک میں ہماری فعالیتیں قابل قبول رہی ہیں اور اب فرانس میں معارف اسلامی یونیورسٹی کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

حجت الاسلام عباسی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ در حال حاضر 100 ممالک کے تقریبا 15 هزار طلاب ایران میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں کہا: تقریبا اسی مقدار میں دیگر ممالک میں جامعة المصطفی العالمیہ سے وابستہ مراکز کہ جو تقریبا 65 ممالک ہیں ، طلاب تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا: طولانی مدت تعلیم کے ساتھ ساتھ جامعة المصطفی میں کوتاہ مدت کورسسز بھی موجود ہیں جس میں پوری دنیا کے طلاب تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

جامعة المصطفی العالمیہ میں شعبہ تحقیقات کے ذمہ دار نے فرانس میں مسلمانوں اور شیعوں کے حالات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: سلفی اور وھابی اس ملک کے مسلمانوں پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش میں ہیں ، فرانس میں 5 میلین مسلمان ہیں اور شیعوں سے مخصوص ایک مسجد بھی ہے  ۔

انہوں نے مزید کہا: پیریس میں تشنہ معارف اسلامی کے کچھ افراد نے ہم سے معارف اسلامی کورس رکھنے کا مطالبہ کیا جس کا عنقریب آغاز کیا جائے گا تاکہ فرانس میں مسلم علماء کی تربیت ہو سکے ، جامعة المصطفی العالمیہ مکمل طور سے نشر معارف اهل بیت(ع) میں کوشاں ہیں ۔

حجت الاسلام عباسی نے یاد دہانی کی: جامعة المصطفی العالمیہ پوری دنیا میں اس ملک کے آئین اور قوانین کے تحت کسی نہ کسی طرح سے موجود ہے  اور بعض ممالک جیسے ، گھانا ، انڈونیشیا اور لندن میں ہم نے اسلامی یونیورسٹی قائم کی ہے اور اپنی فعالیتوں کو بڑھانے میں کوشاں ہیں ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۳۹۴

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬