‫‫کیٹیگری‬ :
22 April 2017 - 10:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427655
فونت
ثروت اعجاز قادری:
سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں، مگر اخلاقی جواز کھو دینے کے بعد میاں نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا، وزیراعظم مستعفی ہو کر کمیشن کے سامنے پیش ہوں۔
محمد ثروت اعجاز قادری

رسا ںیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں، اخلاقی طور پر وزیراعظم مستعفی ہو کر کمیشن کے سامنے پیش ہوں، اس سے قانون کی بالادستی کو فوقیت ملے گی، ملک کے عوام کرپشن کا دروازہ سیاسی اور آئینی طور پر ہمیشہ کیلئے بند کرنا چاہتے ہیں، کالے دھن کو سفید کرنے والوں کو عوام اچھی طرح پہچان چکے ہیں، ملک کو کرپشن کی لعنت سے نجات دلا کر ہی غریبوں کو حقوق مہیا اور ملک کو آگے لے جایا جا سکتا ہے، کرپشن اور پاناما کیس میں جتنے بھی سیاستدان ملوث ہیں، ان سب کا کڑا احتساب ہونا چاہیے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت کراچی پر سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں، مگر اخلاقی جواز کھو دینے کے بعد میاں نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا، اداروں کی بالادستی کو ہر حال میں ممکن بنانا ہوگا۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ عوام سمجھتے ہیں کہ عدالت عظمی کا فیصلہ آچکا ہے، یہ فیصلہ کرپٹ عناصر کیلئے تلوار ثابت ہوگا، سپریم کورٹ کا قائم کردہ کمیشن مستقبل کی تحقیقات فیصلے کی اصل حقیقت ہونگے، کمیشن کو بااختیار بنا کر ہی شفاف تحقیقاتی عمل کو یقینی بنایا جا سکتاہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اور کرپشن نے جہاں مسائل کو جنم دیا ہے، تو دوسری جانب تعلیم، انصاف اور قانون کو امیر غریب میں تقسیم کرکے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنیکا سبب بھی بنی ہے، بہتر و ترقی یافتہ معاشرے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو آئین کی روح کے عین مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔

سربراہ پاکستان سنی تحریک کہا مزید کہنا تھا کہ آئین و قانون کی مکمل بالادستی ہوگی، تو کرپشن، دہشتگردی اور لاقانونیت جنم نہیں لیں گے، بہتر معاشرے قانون کی بالادستی اور انصاف سے ہی قائم ہوتے ہیں، آئین و قانون کی بالادستی میں ہی ترقی، استحکام اور بہتر جمہوریت کا راز پوشیدہ ہے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬