‫‫کیٹیگری‬ :
16 June 2017 - 12:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428563
فونت
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی:
جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے اس تاکید کے ساتھ کہ بعض کام جیسے میدان جہاد سے فرار کرنا اور دشمن کے ساتھ مل کر سازش کرنا باعث ذلت ہے بیان کیا : دشمن سے جہاد میں عزت ہے نہ سازش میں ۔
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے ایران کے مقدس شہر قم کے آستانہ مقدس حضرت معصومہ قم (س) کے امام خمینی (ره) حال میں اس بیان کے ساتھ کہ تمام عزت کے ذرایع خداوند عالم کے پاس ہے ، کہا : عزت اور ذلت خداوندعالم کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔

انہوں نے اس اشارہ کے ساتھ کہ بعض گناہیں انسان کو ذلیل کرتی ہیں لیکن خداوند عالم کے راستہ پر چلنے میں انسان کو عزت ملتی ہے وضاحت کی : میدان جہاد سے فرار اور دشمنوں کے ساتھ سازش انسان کو ذلیل کرتا ہے کیونکہ جیسے بھی جہاد اسلام کے اصول میں سے نہیں ہیں لیکن جب مسلمانوں پر حملہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ جنگ کرے اور عزت کے ساتھ اپنے وقار کا دفاع کرے ۔

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے اس تاکید کے ساتھ کہ بعض لوگ اس آیت کے جواب میں کہ عزت اور ذلت خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے سوال کرتے ہیں کہ کیا ظالموں کی حکومت بھی خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے ، وضاحت کی : علامہ طباطبائی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ ظالموں کی حکومت بھی خداوند عالم  کے ارادہ سے ہے لیکن ظالم حاکم بغیر خداوند عالم کی اجازت کے حکومت کو غصب کیا ہے اور اس کی حکومت باطل حکومت ہے ۔

جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : قرآن کریم کی دو آیت دعا پڑھنے سے قبل تلاوت کرنے سے انسان کا دعا قبول ہوتا ہے وہ دو آیت یہ ہے « قُلِ اللّهُمَّ ملِكَ المُلكِ تُؤتي المُلكَ مَن تَشاءُ وتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ وتُعِزُّ مَن تَشاءُ وتُذِلُّ مَن تَشاءُ بِيَدِكَ الخَيرُ اِنَّكَ عَلي كُلِّ شى‏ءٍ قَدیر» اور «تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَاب» کہ اس میں پروردگار کی قدرت کی طرف اشارہ ہوا ہے فرماتے ہیں کہ تمام امور خداوند عالم کے تاتھ میں ہے اور چونکہ ان دو آیت میں خداوند عالم کے دو اسم اعظم موجود ہیں ، اس کی تلاوت دعا سے قبل دعا کو قبول ہونے کا سبب ہوتا ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے سورہ احزاب کے ۱۷ وین آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : اس آیت میں فرمایا ہے «قُلْ مَنْ ذَا الَّذي يَعْصِمُکُمْ مِنَ اللَّهِ إِنْ أَرادَ بِکُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِکُمْ رَحْمَةً وَ لا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَ لا نَصيراً» یعنی اے رسول کہو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کر بیٹھے تو تمہے اس کے اس عذاب سے کون ایسا ہے جو بچائے یا بھلائی ہی کرنا چاہے اور یہ لوگ خدا کے سوا نہ کسی کو اپنا سرپرست پائے نگے اور نہ ہی اپنا مددگار ۔

انہوں نے وضاحت کی : یہ آیت احزاب کے مجاہدین کے دو لوگوں کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اہل خانہ و بال بچے سے ملنے مدینہ آئے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک محاہد نے دیکھا کہ ان کے بھائی نے غذا سے بھرا دستخوان لگا رکھا ہے اور نہایت آرام کی زندگی گزار رہا ہے اس کو دیکھنے پر اس کے بھائی نے کہا تم بھی میدان جنگ پر مت جاو اور ہمارے پاس رہ جاو ۔ جب یہ دو مجاہدین نے اس حالات کو دیکھا تو اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور خداوند عالم نے ایسے لوگوں پر اپنا لعنت قرار دیا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۶۶۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬