‫‫کیٹیگری‬ :
19 June 2017 - 19:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428619
فونت
آیت الله جعفر سبحانی:
حضرت آیت الله سبحانی نے قران کریم میں روح سے متعلق آیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آیتیں یہودیوں کی جبرئیل امین سے اور رسول اسلام (ص) سے دشمنی کی بیان گر ہیں ۔
آیت الله سبحانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، سرزمین قم ایران کے مشھور مرجع تقلید حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے کل شام ایران ٹی وی کے دوسرے چائنل سے نشر ہونے والے پروگرام "چشمہ معرفت" میں آیت «یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی» کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مشرکین مکہ نے رسول اسلام (ص) کے دعوائے رسالت کی سچائی کا پتا لگانے کے لئے دو آدمی کو یثرب روانہ کیا اور تمام حالات سے باخبر کرنے کے بعد ان سے حقیقت حال سے آگاہ کرنے کی درخواست کی ۔

انہوں نے مزید کہا: یہودیوں نے اس دونوں سے کہا کہ تم ان سے تین چیزیں پوچھو ، اگر جواب صحیح دیں تو وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور اگر جواب غلط دیں تو وہ اپنے جواب میں جھوٹے ہیں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے کہا: پہلا سوال : اپنا گھر چھوڑنے والے کون لوگ تھے ؟ دوم : مشرق و مغرب کو اختیار میں لینے والے کون لوگ تھے ؟ سوم : روح کیا ہے ؟

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے برجستہ استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ خداوند متعال نے قران کریم میں ان سوالات کے جوابات دئے ہیں ، پہلے اور دوسرے سوال کا جواب سورہ کہف میں ہے اور تیسرے سوال کا جواب سورہ اسراء میں موجود ہے ، قریش نے رسول اسلام(ص) سے ان سوالات کے جوابات دریافت کئے تو حضرت(ص) نے جواب میں فرمایا کہ پہلے سوال کا جواب اصحاب کہف ہیں اور دوسرے سوال کا جواب ذوالقرنین ہیں اور تیسرے سوال کا جواب روح ایک ایسا وجود ہے جو خدا کے حکم پر عمل کرتی ہے ۔

انہوں نے روح کے سلسلے میں مفسرین کے درمیان موجود اختلاف نظر کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ روح کے بارے میں سائل کی نگاہ کس گوشے پر ہے ، بعض کہتے ہیں کہ روح سے مراد انسان کی روح ہے اور در حقیقت کفار نے مرسل آعظم(ص) سے روح انسان کے بارے میں سوال کیا تھا کیا آیا روح، مادہ ہے یا مجرد ؟ مگر میری نگاہ میں یہ نظریہ صحیح نہیں ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے مزید کہا: اگر ہمیں سوال کی تہہ تک پہونچنا ہو اور حقیقت سمجھنا ہو تو اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ سائل یہودی تھا اور یہودی، روح کے بارے میں مجرد و مادہ سے بے گانہ ہیں ، کیوں یہ فلسفی باتیں ہیں اور ان کا یہودوں کے حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ جب ہم آیات کے پورے مجموعے پر نگاہ دوڑائیں گے تو ہمیں ملے گا کہ یہودیوں کی نگاہ میں روح سے مراد حضرت جبرئیل امین ہیں کہا: یہودی حضرت جبرئیل کو کہ جو روح امین ہیں خائن بتاتے ہیں اور معتقد ہیں کہ جبرئیل امین ، آل اسحاق سے نبوت لے کر آل اسماعیل کے حوالے کردیں گے ، اور کبھی انہیں تباہی لانے والا اور بلائیں نازل کرنے والا بتاتے ہیں اسی بنیاد پر یہودی حضرت جبرئیل امین کے دشمن تھے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے برجستہ استاد نے مزید کہا: خداوند متعال نے سورہ بقرہ میں خود کو ان لوگوں کا دشمن بتایا ہے جو خدا و ملائکہ اور جبرئیل کے دشمن ہیں ، دیگر آیات میں بھی حضرت جبرئیل امین سے یہودیوں کی دشمنی کا تذکرہ ہے ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یہودی پوری تاریخ میں معمولا حیلہ گر انسان رہے ہیں کہا: وہ اس طرح کا سوال بنا کر یہ سمجھنا چاہ رہےتھے کہ اگر مرسل آعظم(ص) روح کے سلسلے میں یہ کہیں گے کہ وہ تباہی مچانے والی ہے تو یہودیوں کو ایک دوست مل گیا ہے اور اگر روح کی تعریف کریں گے تو مرسل آعظم(ص) یہودیوں کے دشمنوں کی صف میں ہوں گے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے مزید کہا: خداوند متعال ، یہودیوں کی چالبازی سمجھ گیا اور اس نے رسول اسلام(ص) پر وحی نازل کی کہ وہ کہیں کہ روح ، امر الھی یعنی خدا کا حکم ہے ، یہ روح اگر عذاب نازل کرتی ہے تو خدا کے حکم سے اور اگر نعمت عطا کرتی ہے تو بھی خدا کے حکم سے اور اگر پیغام لاتی ہے تو بھی خدا ہی کے حکم سے لاتی ہے ۔

انہوں نے واضح طور سے کہا: یہ بتانا ضروری ہے کہ خان الامین کا تعلق بھی عصر رسول خدا(ص) سے ہی ہے کہ یہودی اس پر اعتقاد رکھتے تھے مگر امت مسلمہ کو اس پر اعتقاد نہیں تھا ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۸۰۷

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬