‫‫کیٹیگری‬ :
26 July 2017 - 17:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429181
فونت
صوبہ خوزستان ایران کے عالم دین نے کہا: خداوند متعال اور دین مبین اسلام نے جس قدر شادی کو آسان بنانے کی تاکید ہے اسی قدر اس نے طلاق کی راہ میں سختیاں و دشواریاں رکھی ہیں ۔
طلاق حجت الاسلام مهدی جابری انصاری

صوبہ خوزستان ایران کے عالم دین حجت الاسلام مهدی جابری انصاری نے  رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کو اھواز میں انٹرویو دیتے ہوئے طلاق کے برے نتائج کی جانب اشارہ کیا اور کہا: روایتوں میں آیا ہے کہ خداوند متعال کے نزدیک طلاق ، منفور ترین مباح عمل ہے ۔

حجت الاسلام جابری انصاری نے کہا: میاں بیوی کے درمیان جدائی ، خداوند متعال کو نہایت ناپسند ہے ، پروردگار عالم نے اگر چہ طلاق کی اجازت دی ہے مگر اسے آخری راستہ قرار دیا ہے کہ میاں بیوی اس جگہ طلاق کا استعمال کریں جب ازدواجی زندگی میں تداوم کا کوئی راستہ نہ بچے ۔

انہوں نے مزید کہا: جب میاں بیوی مصالح آمیز زندگی بسر نہ کرسکتے ہوں ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے عاجز ہوں ، زندگی ناقابل تحمل مشکات سے روبرو ہو تو طلاق سے استفادہ کرلیں ۔

انہوں نے شادی اور احکام طلاق کے درمیان موجود فرق کی جانب اشارہ کیا اور کہا: خداوند متعال اور دین مبین اسلام نے جس قدر شادی کو آسان بنانے کی تاکید کی ہے اسی قدر طلاق کی راہ میں سختیاں اور دشواریاں رکھی ہیں ، جیسا کہ معلوم ہے کہ شادی میں شاھد کی ضرروت نہیں جبکہ طلاق کے لئے شاھد لانا ضروری ہے ، بغیر شاھد کے طلاق مکمل نہیں ہے ۔

صوبہ خوزستان ایران کے عالم دین نے یاد دہانی کی: چونکہ خداوند متعال نے بیوی کا نفقہ شوھر کی گردن پر رکھا ہے اسی لئے طلاق کا بھی اسی کو دیا ہے ۔

حجت الاسلام جابری انصاری نے آخر میں کہا: ۲۲ سال پہلے اسلامی جمھوریہ ایران میں طلاق کو رجسٹرڈ کرنے کی غرض سے لوگ معین شدہ دفاتر میں جایا کرتے تھے مگر اب طلاق کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے عدالت جائیں اور وہاں سے اپنے طلاق کے اقدام کریں ۔ /۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۳۵۹

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬