‫‫کیٹیگری‬ :
08 January 2018 - 13:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 432570
فونت
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں منعقدہ دفاع القدس و آزادی فلسطین آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل بلاشبہ دنیا کے نقشے پر ناجائز حکومت ہے، اسرائیل اپنی پوری قوت بھی استعمال کرلے تو بھی مظلوم فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا، بیت المقدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا، دنیا کی کوئی طاقت بیت المقدس کو ہم سے نہیں چھین سکتی۔
دفاع القدس و آزادی فلسطین آل پارٹیز کانفرنس

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اے پی سی میں آئی ایس او کراچی ڈویژن کے صدر محمد یاسین ، فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان کے ترجمان صابر ابو مریم ، اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما حسیب عالم ، انجمن طلباء اسلام کے رہنما بابر مصطفیٰ اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما اکرام خان سمیت دیگرسیاسی و مذہبی طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دہشت گردوں کا سرپرست اور دنیا بھر میں دہشت گردی کا موجد ہے، امریکی سرپرستی میں اسرائیلی دہشت گردی بدترین مثال ہے۔

شرکاء نے حکومت ِپاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور قبلہ اول بیت المقدس کی حفاطت کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایک دن یومِ فلسطین کے نام سے منسوب کرے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے، مسلمان اوراسلامی ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کریں اور حکومت پاکستان اسرائیلی کی ناجائز پشت پناہی کرنے والے امریکا کے سفیر کو بھی ملک بدر کرے۔

شرکاء نے فلسطینیوں کے تیسرے انتفاضہ القدس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی فلسطین کی حمایت کرنے والی حکومتوں اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور فلسطین کی آزادی کیلئے سرگرم عمل مزاحمتی اسلامی تنظیموں بشمول حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی اور دیگر گروہوں کی حمایت جاری رکھیں گے، پاکستان کے عوام اور بالخصوص نوجوان نسل فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور مظلوم ملت فلسطین کی ہر محاذ پر سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔

کانفرنس کے اختتام پر اسرائیل و امریکا کے خلاف قراردار بھی پیش کی گئی۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬