‫‫کیٹیگری‬ :
04 February 2018 - 15:26
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 434896
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ عصر غیبت میں تشیع تین مرحلوں سے گزری ہے۔ محدیثین سے رابطہ، مرجعیت سے رابطہ اور حکومت اسلامی یعنی ولایت فقیہ سے رابطہ۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل  حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے مسجد مدرسہ حجتیہ قم میں انقلاب اسلامی کی ۴۰ ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا۔

سیمینار سے خطاب میں حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ عصر غیبت میں تشیع تین مرحلوں سے گزری ہے۔ محدیثین سے رابطہ، مرجعیت سے رابطہ اور حکومت اسلامی یعنی ولایت فقیہ سے رابطہ۔

ان کا کہنا تھا کہ تیسرا مرحلہ تشیع کی جوانی کا مرحلہ ہے۔ عصر غیبت میں سب سے زیادہ تشیع آج مضبوط ہے، کیونکہ ایک عالم، فقیہ، شجاع، حکیم اور بابصیرت شخصیت کے پاس تشیع کی حکومت ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ولایت فقیہ کی محوریت میں دو بنیادی ذمہ داریوں کو انجام دینا ہے، نمبر ایک ظلم اور ظالموں کے خاتمے کیلئے کوشش، نمبر دو عدل و قسط کے قیام کی کوشش، تاکہ لیظھرہ علی الدین کل اور یملا اللہ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جورا کے قرآنی و روائی اصولوں کو عملی جامہ پہنا سکیں اور پوری دنیا میں قسط و عدل کا عملی قیام ہو۔

انہوں نے بیان کیا کہ اس عظیم عالمگیر حکومت کے قیام کے لئے ہمیں پاکستان کے محاذ میں تعلیمی، تربیتی، ثقافتی، اجتماعی و سیاسی سپشلسٹ افراد کی ضرورت ہے، تاکہ مدمقابل ظالم نظام کا تمام تر شعبوں میں راستہ روکے اور صبغۃ اللہ، یعنی الٰہی سوسائٹی کے قیام کی راہ میں ممد ثابت ہو۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬