‫‫کیٹیگری‬ :
06 August 2018 - 19:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436796
فونت
آخری قسط:
شادی میں "کفویت" کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے ، میاں بیوی کی علمی کفویت بھی اس قاعدے اور قانون سے الگ نہیں ہے ، لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی ہمسری کے انتخاب میں عام شرائط کے بعد تخصصی معیاروں پر بھی توجہ کریں ۔
شادی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شادی ہر دور اور زمانہ کا سب سے اہم سماجی مسئلہ ہے رہا ہے ، شادی کے سلسلہ میں ہمیشہ کچھ باتیں سامنے رہی ہیں اور ہیں نیز بعض پر دین اسلام نے بھی تاکید کی ہے کہ عصر حاضر کہ مشاوریں اور ماھرین نفسیات نئے جڑوں کو اس بات کی جانب اشارہ کرتے رہتے ہیں ۔

ہم اس سلسلہ کی کچھ باتیں گذشتہ دو قسطوں میں بیان کرچکے ہیں اور اب اس مقام پر اس طرح کی مشکلات ہے سے بچنے کے لئے جو بسا اوقات طلاق کا باعث بھی بن چکی ہے ، کچھ چیزوں اور نکات کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔

جیسا کہ رھبر معظم انقلاب اسلامی کے بیان میں ان باتوں کی جانب اشارہ کیا گیا کہ ہر وہ ملک جس میں خانوادے کی بنیادیں مستحکم ہیں اس ملک کی بہت ساری مشکلات خصوصا اخلاقی اور معنوی مشکلات ، مستحکم اور سالم خانوادے کی برکت سے برطرف ہوجائیں گی یا اصلا مشکلات کا وجود ہی نہ ہوگا ۔

خلاصہ یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کے تمام واقعات دو باتوں پر منحصر ہیں ، ایک شادی سے پہلے کہ جو لڑکے اور لڑکی اور ان کے گھرانے کی ذریعہ حل ہوجاسکتے ہیں اور دوسرے ضروریات زندگی سے آگاہی سے،  جس پر عمل زندگی کی سلامتی اور ترقی کی ضمانت ہے ، علمی کفویت کو اگرچہ ہمسرداری کے معیاروں میں شمار کیا جاتا ہے مگر اگر زوجین زندگی کی مہارتوں سے واقف ہوں جیسے مشترکہ زندگی میں ایک دوسرے کو بڑھاوا دینا ، معنوی اور مادی ترقی کی سیڑھیوں کو طے کرنے کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے سے میاں بیوی کو دنیا و آخرت دونوں ہی کی سعادتیں نصیب ہوتی ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ :

رسالہ اشارات، خزاں سن ،2013 ، شماره 152، ازدواج و خانواده رهبرمعظم انقلاب کے بیان میں

/۹۸۸/ ن ۹۷۶

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬