‫‫کیٹیگری‬ :
07 August 2018 - 13:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436800
فونت
حجت الاسلام ناصر عباس جعفری :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم امریکہ، بھارت اور آل سعود کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتے رہیں گے، ممکن ہے کہ یہ حکومت بننے میں مشکل ایجاد کریں، عراق، لبنان میں یہ مشکل جاری ہے۔ ہم کشمیری اور فلسطینی مظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام ناصر عباس جعفری نے شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے 30ویں برسی کے اجتماع سے خطاب میں کہا ہے کہ امام علی علیہ اسلام نے وصیت کی کہ ظالموں کا مخالف اور مظلوموں کا حامی بن کر رہنا، شہید قائد مولا علی علیہ اسلام کے سچے بیٹے تھے، جنہوں نے ظالموں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالا تھا، اسی وجہ سے انہیں شہید کیا گیا، وہ پاکستان کی سرزمین پر مظلوموں کو جمع کرکے انہیں طاقتور بنانا چاہتے تھے، شہید کی قیادت مظلوموں کو طاقتور بنانے کے لئے تھی، شہید کو دیکھ کر ہمت ملتی تھی، طاقت ملتی تھی، شہید دشمن شناس تھے، وہ امریکہ کو سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے، پاکستان کی سرزمین پر مردہ باد کا نعرہ لیکر پہنچے۔

حجت الاسلام ناصر عباس نے کہا کہ شہید قائد امریکہ اور اسرائیل کے دشمن تھے، وہ پاکستان کا استقلال چاہتے تھے، پاکستان کی ترقی و پیش رفت چاہتے تھے، ایک خود مختار ملک چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں ہوں، شہید قائد ایک باوقار ملک چاہتے تھے۔ امام خمینی کے بعد شہید عارف جیسا کوئی رہبر نہیں تھا، دشمن جانتا تھا کہ اگر اسی طرح عارف حسینی چلتا رہا تو ان کے لئے مسئلہ بنے گا، وہ دوسرا امام خمینی نہیں چاہتے تھے، شہید عارف شیعہ سنی وحدت کو لیکر آگے بڑھ رہے تھے، دشمن کے لئے وہ بہت خطرناک تھے، دشمن پر واضح تھا کہ جب تک شہید قائد کو اپنے راستے سے ہٹا نہیں لیتا، تب تک وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

حجت الاسلام ناصر عباس نے کہا کہ قائد شہید امام خمینی کے سچے پیروکار تھے۔ 30 سال بعد بھی قائد شہید کی محبت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، امریکہ مردہ باد کا نعرہ ایک حکمت عملی ہے، جو قائد شہید نے متعارف کرائی۔ شہید کے راستے پر چلتے رہیں گے اور اپنی استقامت سے دشمن کو مایوس کرتے رہیں گے۔ شہید کو اس لئے قتل کیا گیا کیونکہ شہید اتحاد و وحدت کے داعی تھے، عالمی استکباری قوتوں نے انہیں شہید کرایا، کیونکہ وہ ان کے غلبے کے لئے چیلنج تھے۔ دشمن نے قائد شہید کو قتل کرکے ہمارا سر کاٹا تھا، اگر اس وقت کھڑے ہوتے تو آج یہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ زمانے کے یزید کج فہم اور اندھے ہوتے ہیں، وہ یہ سوچتے ہیں کہ شہادتوں سے تحریکیں رک جاتی ہیں یا حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ شہید کے خون نے کربلا کے سرخ لیکر کو پاکستان تک کھینچا ہے۔ شہید دین و سیاست کو اکٹھا سمجھتے تھے، وہ جدائی کے قائل نہیں تھے۔ مجلس وحدت کی تاسیس کے بعد مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کی طاقت اور قدرت میں اضافہ ہوا ہے، آواز میں طاقت پیدا ہوئی، دشمن ہماری سیاسی، سماجی اور معاشی طاقت توڑنا چاہتا تھا، ہمیں مایوس کرنا چاہتا تھا۔ ہم شہید کے راستے پر چلتے ہوئے دشمن کو سماجی اور سیاسی حوالے سے تنہا کریں گے، یہ عوام کی طاقت ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے اپنی جماعت کی سیاسی پایسی بتاتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں ہمارے اسٹریٹیجک گولز تھے، وہ یہ تھا کہ کمپرومائزڈ سیاسی لیڈرز آگے نہ آسکیں، وہ جن کے کاروبار برطانیہ اور بھارت میں ہیں، وہ جو اپنے مفادات کی وجہ سے پاکستان کے مفاد پر سودہ بازی کرتے تھے، ان کے لئے کام کرتے تھے، ان کو شکست دینا تھا، مجلس کی پالیسی تھی کہ بھارت اور امریکہ کی پالیسی کو آگے بڑھانے والوں کو شکست ہو اور ہماری یہ پالیسی کامیاب رہی۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے اتحادیوں کو شکست ہوئی، ہم نے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ عمران خان سے کہا ہے کہ آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیئے، ہمسایوں اور علاقائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے۔ ہم نے مدتوں بعد نسیم اور امید کو چلتے ہوئے دیکھا ہے، تکفیریت کو شکست ہوئی ہے۔

حجت الاسلام ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہم نے ناعاقبت اندیشن افراد کی مذمت کرتے ہیں، جو یتیمان آل محمد کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں، ان لوگوں نے قوم سے خیانت کی ہے، یہ چھپ کر ملاقات کرتے رہے ہیں، جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں ایمان رکھتے ہیں کہ کسی بھی مسلک کا ماننے والا کافر نہیں ہے، سب مادر وطن کے بیٹے ہیں، لیکن قاتلوں کے ساتھ کوئی شریف اور عزت رکھنے والا نہیں بیٹھا کرتا، گھٹیا اور پست انسان تکفیریوں کے ساتھ بیٹھا کرتا ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کا چیئرمین نون لیگ اور اپوزیشن نے بنایا تھا، الیکشن کی ساکھ پر سوال اٹھا کر انہوں نے الیکشن کو جان بوجھ کر متنازعہ بنایا ہے، اپوزیشن نے خیانت کی ہے۔ ہمیں بھی نقصان پہنچایا گیا ہے، ہم امریکہ، بھارت اور آل سعود کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتے رہیں گے، ممکن ہے کہ یہ حکومت بننے میں مشکل ایجاد کریں، عراق، لبنان میں یہ مشکل جاری ہے۔ ہم کشمیری اور فلسطینی مظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے ساتھ ہیں۔ چلاس میں بچیوں کے اسکولز جلائے جا رہے ہیں، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں، ہم مسلحانہ جدوجہد کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنی شناخت مانگتے ہیں، ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، وہاں کا وزیراعلیٰ اس عمل میں شامل ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی سمندر پار پاکستانیوں اور حسینیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پاکستان پیسے بھیجیں، تاکہ ملک قرضوں کی دلدل سے نکلے، نئی حکومت ڈیم بنانے کی مہم چلائے گی تو ہم بھرپور ساتھ دیں گے۔ الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور کراچی میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، ہم کورٹ میں جائیں گے، آنے والے دن ہمارے لئے بہتری کی نوید لیکر آئیں گے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ عمران خان سے کہا ہے کہ افغانستان، ایران، ترکی، عراق، چین اور روس کے ساتھ اتحاد بنائیں۔ عراق میں 20 لاکھ پاکستانیوں کو بھیجا جاسکتا ہے، ایسا وزیر خارجہ ہونا چاہیئے جو علاقائی اور جغیرافیائی صورتحال سے آگاہ ہو۔ شام کے اندر بھی تعمیر نو ہو رہی ہے، ہمیں جانا چاہیئے، وہاں بھارت جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانا ہوگا، رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف اس سانحہ کے مجرم ہیں، ان کو سزا ملنی چاہیئے۔ پنجاب کا ابن زیاد شکست کھا چکا ہے، جس میں مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کا مرکزی کردار ہے۔ اپوزیشن کو متنبہ کرتا ہوں کہ اگر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی تو ملک کے باوفا بیٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حجت الاسلام ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہم یمن کے مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے حوصلوں اور ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں، چالیس ماہ ہوگئے، وہ دشمن کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں، سارے ممالک سعودی قیادت میں ایک ساتھ ہیں، لیکن یمنیوں کی مقاومت کو نہیں توڑ سکے۔ یمن میں امریکہ، اسرائیل، فرانس اور سعودی عرب کو شکست ہوگئی ہے۔ لبنان اور شام میں بھی ان کو شکست ہوچکی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬