‫‫کیٹیگری‬ :
22 November 2018 - 15:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437718
فونت
کاروانِ اسلامی کے سربراہ :
غلام رسول حامی نے کہا کہ کشمیری قوم اس وقت دنیا کے بدترین حالات سے گزر رہے ہیں ۔
عید میلاد النبی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عید میلاد النبی (ص) کے سلسلے میں ریاست جموں و کشمیر میں سب سے بڑی ریلی جموں و کشمیر کاروانِ اسلامی کے اہتمام سے نکالی گئی۔

میلاد النبی (ص) کی سب سے بڑی ریلی کاروانِ اسلامی کے مرکزی دفتر شہید گنج سرینگر سے نکل کر بیس کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد فلک شگاف نعروں اور رقعت آمیز دعاؤں سے موئے مقدس (ص) و دیگر تبرکات کی زیارت کے بعد شادی پورہ سمبل میں اختتام پذیر ہوئی۔

ایک اندازے کے مطابق ریلی میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کاروانِ اسلامی کے سربراہ غلام رسول حامی نے لوگوں سے سیرت النبی (ص) پر زندگی گزارنے اور اپنی جان و مال حضور اکرم (ص) پر نچھاور کرنے کا عہد لیا۔

انہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے کہ جہالت، ظلم اور لادینی کا خاتمہ نور مصطفوی (ص) سے متحد ہوکر کیا جائے۔

غلام رسول حامی نے کہا کہ کشمیری قوم اس وقت دنیا کے بدترین حالات سے گزر رہے ہیں، عوام الناس اپنی جان و مال کے تحفظ کو ہر لمحہ غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دن بہ دن بڑھتے ہوئے تشدد کی لہر نے کشمیر کے چپے چپے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، ہر روز تشدد، ظلم، جبر اور نوجوانوں کی اٹھتی ہوئی لاشوں سے اب ہماری حالتِ زار پر فطرت انسانی رکھنے والی ہر آنکھ نم ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن یا حکومت سازی سے تب تک کوئی مثبت نتیجہ ممکن نہیں ہے جب تک مسئلے کے تمام فریقین کشمیر، ہندوستان، پاکستان اور چین سمیت دیگر ممالک باہمی بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر ی سیاسی، سماجی، مذہبی قائدین کو اس مسئلے کو نہ صرف دو ملکوں کے درمیان حل کے لئے کوشش کرنی چاہیے بلکہ پورے برصغیر میں اس بنیادی مسئلے کو اصل حقائق پہنچا کر مسئلے کے حل کے لئے ٹھوس اور مضبوط پالسی کو ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں شراب اور منشیات فروشی کا دھندہ بڑی شدت کے ساتھ چند مخصوص لابیوں کے ذریعہ سے حکومتی پشت پناہی سے جاری ہے تاہم انسانیت میں یقین رکھنے والے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کو حضور (ص) کے اسوۂ حسنہ سے جڑ کر شراب اور منشیات کے خاتمے کے لئے اٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬