‫‫کیٹیگری‬ :
21 January 2019 - 14:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439578
فونت
حجت الاسلام والمسلمین عباسی نے خبردی؛
جامعه المصطفی العالمیه کے سربراہ نے یہ کہتے ہوئے کہ 132 ممالک کے ھزاروں طلاب و افاضل، المصطفی میں زیر تعلیم ہیں، اس اہم تعلیمی مرکز میں 400 تعلیمی موضوعات کے اضافہ کا امکان ظاھر کیا ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، جامعه المصطفی العالمیه کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی عباسی نے کل شام کے وقت مرجع تقلید حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات اور گفتگو کی ۔

انہوں نے اس ملاقات میں یہ کہتے ہوئے کہ جامعه المصطفی العالمیه در حقیقت حوزہ علمیہ کا بین الاقوامی شعبہ ہے کہا: یہ علمی مرکز انقلاب اسلامی کی برکتوں سے تشکیل پایا اور انقلاب اسلامی کی برکات و حسنات میں سے ایک ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین عباسی نے واضح طور سے کہا: جامعه المصطفی العالمیه نے خود کو میڈیا کی سرگرمیوں اور شور و غل سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دنیا کے معتبر مراکز، المصطفی کو علمی اور انقلاب اسلامی کا آئینہ دار مرکز جانتے ہیں کہا: در حاضر 132 ممالک کے طلاب، المصطفی میں زیر تعلیم ہیں نیز اس وقت 130 موضوعات ہیں جب کہ نئی پروگرامینگ کے تحت 400 موضوعات تک اضافہ کا امکان پایا جاتا ہے ۔

جامعه المصطفی العالمیه کے سربراہ نے  اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اندرون ملک اور بیرون ممالک جامعه المصطفی العالمیه کی نمایندگی میں تقریبا 4000 ھزار اساتذہ در حال تدریس ہیں ، مختلف شعبے کی رپورٹ پیش کی اور المصطفی میں در حال تعلیم اور فارغ تحصیل طلاب کی تعداد سے حضرت آیت الله مکارم شیرازی کو باخبر کیا ۔

انہوں نے ورچوئل یونیورسٹی کی فعالیتوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس سنٹر میں بھی 7000 ھزار افراد کے زیر تعلیم ہونے کی خبر دی ۔

حجت الاسلام والمسلمین عباسی نے المصطفی میں 700 تعلیمی متون اور دنیا کی مشھور 15 زبانوں میں فعالیتیں انجام پانے کی خبر دی اور کہا: مختلف زبانوں میں آثار ترجمہ کئے جاتے ہیں کہ جس کا عظیم حصہ المصطفی کے فارغ التحصیلان انجام دیتے ہیں ، ابھی تک 3700 کتابیں مختلف زبانوں میں شائع ہوچکی ہیں ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۵

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬