‫‫کیٹیگری‬ :
12 January 2020 - 10:53
News ID: 441918
فونت
حجت الاسلام محمد امین شہید :
امت واحدہ کے سربراہ نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جامعۃ الکوثر میں مجلس تکریم و تجلیل برائے شہداء مقاومت اسلامی سے امت واحدہ کے سربراہ حجت الاسلام محمد امین شہید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ میں اپنی اس مختصر گفتگو میں ان عظیم شہداء کی شخصیت کا احاطہ شاید نہ کر سکوں۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں شہداء کی شناخت صرف داعش کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں تفکر دینی اور استقامت دینی کے احیا کا علم ان کے ہاتھ میں تھا اور یہ صرف عراق کی بات نہیں ہے۔ اگر ہم لبنان کی گلیوں میں دیکھیں تو ان کی خوشبو آتی ہے، اگر ہم فلسطین، القدس کی گلیوں میں دیکھیں تو ان دونوں ہستیوں کی خوشبو ان تمام گلیاں رچی بسی ہے۔ اگر ہم حلب اور دمشق کے گلی کوچوں میں دیکھیں تو ان کی خوشبو وہاں بھی محسوس ہوتی ہے۔ بغداد میں اور یمن میں بھی آج اگر کوئی مقاومت ہے، ظلم کے مقابلے میں مظلوم اور پا برہنہ لوگ بے یار و مددگار ہونے کے باوجود سب سے بڑی قوتوں کی ناک زمین پر رگڑ رہے ہیں تو وہاں پر بھی انہی دونوں شخصیات کا ہاتھ تھا۔ اس کے علاوہ ایران، افغانستان اور نائجیریا میں ان دنوں شہداء کی جو خدمات ہیں، وہ اپنی جگہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس شہید کے مقام تک پہنچنے کے لیے صرف ذہانت کافی نہیں ہے، صرف اسلحہ کافی نہیں ہے، تدبیر کافی نہیں ہے، شاید بڑے بڑے عقلا ہوں، لیکن اس مقام تک نہ پہنچ پائیں۔ بڑے بڑے ذہین اور جنگی حکمت سے آراستہ لوگ ہوں، لیکن اس مقام تک نہ پہنچ پائیں، لیکن ان شہداء کے اس بلند مقام تک پہنچنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان دونوں شہداء میں اخلاص اور عجز و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شہید ابو مہدی مہندس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں حاج قاسم سلیمانی کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں۔ اسی طرح جب عربوں نے شہید قاسم سلیمانی کو عجم کہہ کر ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ اے میرے عرب بھائی میں تو سب کچھ اللہ کے لیے کر رہا ہوں۔

شہید قاسم سلیمانی کا اپنے بدترین عربیوں کو اس اخلاص سے مخاطب کرنا واقعی اخلاص کی معراج ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی وہ شخصیت تھے، جن پر بڑے بڑے علماء، بڑے بڑے عرفاء اور بڑی بڑی بزرگ ہستیاں ان کی قسمت پر رشک کرتی تھی، تاہم شہید قاسم سلیمانی میں عجز و انکساری اتنی تھی کہ وہ لوگوں سے یہ درخواست کر رہے تھے کہ وہ ان کے اعمال کے گواہ بنیں۔

علاوہ ازیں علامہ محمد امین شہیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دو عظیم شہداء شہادت کا بڑا شوق رکھتے تھے اور اللہ نے بلآخر ان کی مراد پوری کر دی اور شہادت عطا فرما دی۔

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬