‫‫کیٹیگری‬ :
05 March 2020 - 01:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442236
فونت
علامہ جواد نقوی:
تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ نے کہا: ہندو اکثریت کیساتھ جڑے رہنے میں مزید کتنا نقصان ہونے کا خطرہ ہے شاید اس کا اندازہ لگانا دشوار ہے، اب یہی وقت ہے مسلمان لیڈر شپ، مسلمان عوام اب راہِ آزادی چن لیں اس وقت ھندوستان میں کربلا کا سماں بندھا ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے ھندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ حالت کے حوالے سے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن مسلمان رہنماوں نے تحریکِ پاکستان چلائی تھی اور پاکستان بنایا تھا، اُس وقت انڈیا میں بعض مسلمان رہنماؤں نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی، لیکن اب انڈیا کے مسلمانوں کیلئے بہت ہی حساس وقت آن پہنچا ہے اور یہ پہلے سے ہی متوقع تھا۔

انہوں نے کہا کہ جن مسلمان رہنماؤں نے پاکستان بنایا اور قیامِ پاکستان کی تحریک چلائی، انہوں نے اِسی دن کے خوف سے مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت بنائی تھی کہ جس میں اِن کی جان و مال محفوظ ہو اور متعصب اکثریت کے سامنے مسلمان بے عزت نہ ہوں، قتل و غارت نہ ہو۔ پاکستان کی مخالفت کرنیوالوں کو اب انڈیا میں رہنا مہنگا پڑ رہا ہے۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ افسوس کہ اُس وقت قیام پاکستان کے دوران بھی ہندوستان کے اندر چند مسلمانوں رہنماؤں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور یہ فیصلہ قبول نہیں کیا، پاکستان کو نہیں مانا بلکہ ہندوستان میں رہنے کو ہی ترجیح دی تھی تبھی سے یہ اندام کھل گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی وقت تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کو یہ توقع تھی کہ ان کے اوپر بھی ایک دن ایسا ہو گا اب وہ قائدین کہہ رہے ہیں کہ اس وقت جو پیش گوئیاں کی گئیں وہ درست ثابت ہو رہی ہیں، اب اِس وقت بھارت میں یہ معاملہ قابو سے باہر چلا گیا ہے، کیونکہ دنیا کی طرف سے اور کسی اسلامی ملک کی طرف سے کوئی پریشر نہیں ہے، پہلے "برما" میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جبکہ وہ ایک ٹیسٹ طور پر تھا کہ مسلمانوں میں سے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کوئی اُٹھتا ہے؟ کسی نے کوئی آواز نہیں اُٹھائی، صرف پریس بیانات اور این جی اوز کی حد تک معاملہ رہا۔ اُسی برما حکومت کیساتھ تمام مسلمان ممالک کے روابط قائم ہیں، کسی نے برما کا سفیر نہیں نکالا، کسی نے تعلقات نہیں توڑے، کسی نے تجارت ختم نہیں کی، یہ ٹیسٹ تھا اور وہاں مسلمانوں کی یہ نبض تھی۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اُس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ برما میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اصل نہیں، اصل ہندوستان میں ہونا ہے، اصل سنیریو انڈیا میں ہے جو کہ شروع ہو گیا ہے۔ انڈیا کے اندر رہنے والے مسلمانوں نے اگر اُس وقت ستر سال پہلے ایک غلطی کی، ستر سال پہلے قبول نہیں کیا تھا تو آج کے حالات اور اِن ستر سالوں میں جو کچھ ہوا ہے، اِس کی بنیاد پر اب اِن کے اندر سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان جیسا مناسب سمجھیں لیکن ہندو اکثریت کیساتھ جڑ کر رہنے میں مستقبل میں مزید کتنا نقصان ہونے کا خطرہ ہے، شائد اس کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اب یہی وقت ہے مسلمان لیڈر شپ، مسلمان عوام اور ہر طبقے و ہر فرقے کیلئے کہ اب راہِ آزادی چن لیں اور یہ راستہ ایسے حالات میں بھارتی مسلمانوں کیلئے اِس وقت کربلا کا سماں بندھا ہے۔/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬