11 September 2016 - 10:04
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423162
فونت
حضرت مسلم بن عقیل(ع) کی شھادت کا پرسہ پیش کرنے والے لاکھوں زائرین عراق کی سر زمین پر عزاداری میں مشغول ہیں ۔
حضرت مسلم بن عقیل

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حضرت امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کی المناک شہادت کا پرسہ پیش کرنے کے لیے لاکھوں زائرین کربلا پہنچ رہے ہیں اور روضہ مبارک امام حسین(ع) و حضرت عباس(ع) میں حاضری دے رہے ہیں۔

حضرت مسلم بن عقیل کے مختصر حالات زندگی:

حضرت مسلم بن عقیل حضرت امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی، مرد حق، جری اور اسلام میں امام علیہ السلام کے حقیقی آشنا تھے۔ آپ اسلامی فتوحات اور جنگ صفین وغیرہ میں شریک رہ چکے تھے اور جب امام حسین علیہ السلام نے بیعت یزید کو ٹھکرا کر مدینہ کو خدا حافظ کہا تو آپ بھی امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مکہ تک تشریف لائے، مکہ میں امام حسین علیہ السلام کو اہل کوفہ کے خطوط موصول ہوئے کہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے آپ تشریف لائیے ہو سکتا ہے آپ ہماری ہدایت کا سبب بنیں۔

امام حسین علیہ السلام کوفہ کی تہذیب اور وہاں کے لوگوں کی بدلتی ہوئی طبیعت اور مفاد پرستی کو بخوبی جانتے تھے ، کیونکہ اسی کوفہ میں آپ کے پدر بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا ۔ ایسے شہر کے لئے کسی مخلص اور تجربہ کار شخص کی ضرورت تھی کہ جو لحظہ بہ لحظہ رنگ بدلنے والے افراد سے شکست نہ کھا سکے اور اپنے مقصد کے حصول سے ہنگامی حالات میں بھی غافل نہ رہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے مختصر قافلہ پر نظر ڈالی اور مسلم بن عقیل کو اپنا نمائندہ منتخب فرما کر کوفہ روانہ کردیا۔

امام کا خط اہل کوفہ کے نام:

مسلم کی روانگی سے قبل امام نے سعید اور ہانی بن عروہ کے ہاتھ ایک خط اہل کوفہ کے نام اس مضمون کا ارسال کیا یہ لوگ یعنی سعید وہانی بن عروہ تمہارے خطوط لے کر پہنچے تمہاری تحریر کومیں نے غور سے پڑھا تمہاری بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا کوئی امام نہیں ہے لہذا تم مجھے بلا رہے ہو، میں اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیج رہا ہوں یہ میرے معتمد ہیں اور میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ وہ مجھے تمہارے حالات کی اطلاع دیں گے اگر انہوں نے اطلاع دی کہ کوفہ کے سربرآوردہ افراد اس بات پر متفق ہیں تو میں آجاؤں گا ۔ واضح رہے امام کتاب خدا پر کامل عدالت کا پابند ــ حق اور مرضی معبود کا ہمہ وقت خواستگار ہوتا ہے۔ والسلام حسین بن علی بن ابی طالب۔

جناب مسلم مکہ سے مدینہ تشریف لائے اور روضہ رسول میں نماز ادا کر کے صبح ہوتے ہی کوفہ کی سمت سفر کا آغاز کردیا۔ راستہ کی مشکلات برداشت کرتے ہوئے مدینہ سے کوفہ پہنچے اور مختار بن عبید ثقفی کے گھر قیام پذیر ہوئے ۔

جناب مسلم کی آمد کی خبر سن کر اہل کوفہ مختار کے گھر میں جمع ہوئے آپ نے امام حسین علیہ السلام کا خط پڑھ کر سنایا تو لوگ جوش محبت و عقیدت سے رونے لگے۔ اور بعض با اثر عقیدت مندوں نے کھڑے ہو کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اپنی نصرت کا یقین دلایا اس کے بعد لوگ آپ کے ہاتھوں پر امام حسین (ع) کی بیعت کرنے لگے۔

اگر چہ جناب مسلم نے ان لوگوں سے بیعت کا مطالبہ نہیں کیا تھا لیکن جب وہ بہ رضا و رغبت بیعت کرنے لگے تو آپ نے ان سے اس طرح بیعت لی جس طرح رسول نے قبیلہ خزرج وغیرہ سے بیعت لی تھی بیعت کے الفاظ یہ تھے ؛ کتاب خدا و سنت رسول کی طرف دعوت ، ظالموں اور سرکشوں سے جہاد ، مستضعفین سے دفاع ، محروموں کے حقوق کی بازیابی ، غنائم کی صحیح تقسیم اور اہل بیت کی نصرت۔

بیعت کرنے والوں کی تعداد میں اختلاف ہے اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بیعت ایک ہی روز نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا سلسلہ کم و بیش ایک ماہ جاری رہا تھا ۔ اسی لئے بیعت کرنے والوں کی تعداد معین نہیں کی جا سکتی۔

لیکن جب ابن زیاد ملعون کوفہ کا گورنر بن کر آیا تو اس نے اہل کوفہ سے کہا : شام سے بہت جلد لشکر آنے والا ہے ، جو تم کو تباہ و برباد کر دے گا نیز تمہاری جان اور آبرو بھی محفوظ نہ رہ سکے گی ۔ چنانچہ وہ افراد جنہوں نے ابن زیاد کا کلام سنا تھا ، وہاں سے نکل کر مہاجرین کے اہل خانہ کے پاس پہنچے اور ان کی ماں بہنوں اور بیویوں کو ورغلایا کہ تمہارے وارثوں کو شام کا لشکر آکر تہہ تیغ کر دیگا اور لشکر آنے ہی والا ہے عورتوں کا دل اپنے وارثوں، بھائیوں بھتیجوں کے قتل سے لرزنے لگا اور بے تحاشا گھروں سے نکل پڑیں اور اپنے اپنے عزیزوں کے دامن پکڑ کر فریادیں کرنے لگیں جن سے مہاجرین کے دل بھی کانپنے لگے ۔

کچھ تو انہیں عورتوں کے ساتھ چلے گئے اور کچھ موقع دیکھ کر فرار ہو گئے اور جناب مسلم وہاں پہنچے تو بہت مختصر افراد کو موجود پایا شام ہوتے ہی آپ کے پا س صرف ٣٠ افراد بچے تھے اسی قلیل تعداد کے ساتھ آپ نے نماز مغربین ادا کی نماز کے بعد ان میں سے بھی دس فرار ہو چکے تھے مسلم مسجد سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ کے ساتھ دس ہی افراد رہ گئے ہیں انہیں لوگوں کے ہمراہ آپ باب کندہ کی طرف روانہ ہوئے مسلم محلہ کندہ میں جس وقت پہنچے تو اپنے کو تنہا پایا اب آپ کے ہمراہ کوئی راستہ بتانے والا بھی نہ تھا اور ابن زیاد کی دھمکی آمیز تقریر سے کوفہ میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔

ہر ایک کے مکان کا دروازہ بند نظر آتا تھا مسلم کی نگاہ ایک عورت پر پڑی جو اپنے دروازہ پر کھڑی اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھی چونکہ مسلم پر پیاس کا شدید غلبہ تھا اور دوسری طرف کوفیوں کی غداری کے احساس نے بھی کافی متاثر کر دیا تھا آپ نے اس عورت کے پاس جا کر سلام کیا اور کہا میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلادو۔ اس عورت کا نام طوعہ تھا جو پہلے محمد بن اشعث کی کنیز تھی اور آزادی کے بعد اسید حضرمی کے نکاح میں آگئی تھی اس سے ایک لڑکا بلال پیدا ہوا وہ اسی لڑکے کا انتطار کررہی تھی ۔

طوعہ اندر سے پانی لائی جناب مسلم نے پانی پیا پھر وہ کاسہ رکھنے اندر چلی گئی اور جب لوٹ کر آئی تو دیکھا کہ وہ شخص دروازے ہی پر بیٹھا ہوا ہے طوعہ نے کہا اے بندہ خدا کیا میں نے تمہیں پانی نہیں پلایا ؟ اس کے بعد فوراً حضرت مسلم سے کہا : تم اب اپنے گھر کیوں نہیں جاتے ؟

مسلم خاموش رہے اس نے دو تین مرتبہ کہا تو مسلم نے جواب دیا! اے کنیز خدا میرا اس شہر میں کوئی گھر نہیں ہے کیا تم اپنے گھر میں مجھے پناہ دے کر ثواب حاصل کروگی ؟ ممکن ہے اپنی زندگی میں، اس کا کچھ عوض دے سکوں، طوعہ نے پوچھا آپ کون ہیں آپ نے فرمایا: میں مسلم بن عقیل ہوں کوفہ والوں نے میرے ساتھ غداری کی ہے ۔

طوعہ نے کہا آپ مسلم ہیں آئیے میرا گھر حاضر ہے آپ داخل خانہ ہوئے طوعہ نے ایک الگ کمرے میں فرش لگایا کھانا لائی مگر آپ نے کھانا تناول نہیں فرمایا. اسی اثنا میں طوعہ کا لڑکا بلال آ گیا اس نے اپنی ماں کو جب اس کمرہ میں باربار آتے جاتے دیکھا تو معلوم کیا کہ آپ اس کمرہ میں آج بار بار کیوں داخل ہو رہی ہیں بتائیے ماجرا کیا ہے ؟ لڑکے کی ضد نے اس کو یہ راز بتانے پر مجبور کردیا ۔

پہلے اس نے لڑکے سے کہا : تم یہ قسم کھاؤ کہ یہ بات کسی سے نہیں بتاؤ گے اس نے قسم کھائی تو طوعہ نے کہا کہ آج ہمارے گھر میں مسلم بن عقیل مہمان ہیں وہ یہ بات سن کر خاموشی سے لیٹ گیا لیکن صبح ہونے کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا ، صبح ہوتے ہی طوعہ کا لڑکا بلا ل، عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ مسلم بن عقیل ہمارے گھر میں موجود ہیں۔

عبدالرحمن، فورا ہی دربار ابن زیاد میں اپنے باپ کے پاس پہنچا اور اس کے کان میں آہستہ سے کہا کہ مسلم ہمارے محلہ کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں ابن زیاد نے پوچھا کہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے ؟ محمد بن اشعث نے جواب دیا کہ کہتا ہے مسلم بن عقیل ہمارے گھروں میں سے کسی گھر میں ہیں.

مسلم کی گرفتاری کیلئے ابن مرجانہ نے محمد بن اشعث کی سرکردگی میں اسیّ سواروں کو روانہ کیا جب یہ لشکر طوعہ کے گھر کے قریب پہنچا جناب مسلم نے ہتھیاروں کی جھنکار اور گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی زرہ پہن کر گھر سے باہر نکلنا ہی چاہتے تھے کہ ابن اشعث کا لشکر گھر میں داخل ہوا اور مسلم کو گرفتار کرنے کے نتیجہ میں جنگ شروع ہوگئی اور تن تنہا مسلم نے لشکر کو تین مرتبہ گھر سے باہر نکال دیا۔

جب ابن زیاد کے سپاہیوں نے دیکھا کہ اس طرح مسلم بن عقیل پر ہم قابو نہیں پا سکیں گے تو انہوں نے مکانوں کی چھتوں سے جناب مسلم پر پتھر اور آگ برسانا شروع کر دیا، مسلم بن عقیل اس روباہ شکار لشکر کی بزدلی اور اوچھاپن کودیکھ کر گھر سے نکل آئے اور دلیرانہ جنگ کرنے لگے اور محمد بن اشعث کے بہت سے سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

مسلم کے حملوں کو دیکھ کر ابن اشعث سمجھ گیا کہ مسلم کو اس طرح گرفتار نہیں کیا جا سکتا لہذا اس نے کہا مسلم آپ کے لئے امان ہے تو آپ نے فرمایا: کیا فریب کا ر اور بد کردار لوگوں کی امان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ لیکن لشکر والوں نے بیک آواز کہا کہ آپ کو دھوکا نہیں دیا جا رہا ہے اور نہ ہی آپ سے جھوٹ بولا جا رہا ہے ۔

آپ کو اسیر کر کے ابن زیاد کے پاس لایا گیا ؛ اورجب جناب مسلم نے اپنی شہادت کے آثار محسوس کئے تو وصیت کے لئے مہلت طلب کی ابن زیاد نے کہا وصیت کی اجازت ہے حضرت مسلم نے ایک مرتبہ پورے مجمع پر نظر ڈالی عمر سعد کے علاوہ کوئی شخص وصیت کے لائق نظر نہ آیا، (مجبوری کی حالت میں کمینہ، نالائق اور گھٹیا لوگ بھی قابل اعتماد سمجھ لئے جاتے ہیں ).

لہذا حضرت مسلم نے بھی ابن سعد کو لائق اعتبار سمجھ کر فرمایا ہمارے تمہارے درمیان ایک قرابت ہے اس لئے تم سے میری ایک خواہش ہے لیکن ابن سعد نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا ، ابن زیاد نے کہا سن تو لو کیا کہتے ہیں. ابن سعد جناب مسلم کے پاس گیا آپ نے اس کو یہ وصیت کی کہ جب میں کوفہ آیا تھا تو اس وقت میں نے چھ سو درہم قرض لئے تھے ان کو میری زرہ اور تلوار فروخت کر کے ادا کر دینا اور میری شہادت کے بعد ابن زیاد سے میری لاش لے کر دفن کر دینا اور امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر اس حادثہ سے مطلع کردینا اور لکھنا کہ کوفہ تشریف نہ لایئے.

ابن زیاد نے حکم دیا کہ مسلم کو بالائے بام لے جا کر شہید کردیا جائے جب حضرت مسلم کو چھت پر لے جایا گیا تو اس وقت آپ یاد خدا میں مصروف تھے احمر بن کبیر نے جناب مسلم (ع) کا سر تن سے جدا کیا اور لاش کو زمین پرپھینک دیا ۔ اِنّا للّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ راجِعون./۹۸۹/ف۹۳۰/ک۱۹۳۶/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬