‫‫کیٹیگری‬ :
09 November 2016 - 11:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424355
فونت
حجت الاسلام آغا راحت حسین الحسینی :
آغا راحت حسینی نے مسلم لیگ نون جی بی کے پارلیمانی وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ جب پورے ملک میں یوم حسن (ع) کا انعقاد باقاعدگی کے ساتھ ہوتا ہے تو گلگت بلتستان میں انہیں پریشانی کیوں ہے اور یہ سب کس لئے ہو رہا ہے۔
حجت الاسلام آغا راحت حسین الحسینی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گلگت بلتستان کے نامور عالم دین، امام جمعہ و جماعت مرکزی جامع مسجد گلگت حجت الاسلام آغا راحت حسین الحسینی نے پاکستان مسلم لیگ نون جی بی کے پارلیمانی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ گلگت بلتستان میں ہم نے ہمیشہ امن کے لئے کوششیں کی ہیں لیکن حکومت نہیں چاہتی کہ امن قائم ہو۔

انہوں نے کہا کہ یوم حسین (ع)  پر پابندی عائد کرتے ہوئے وزیراعلٰی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کہا تھا کہ پورے ملک میں نیکٹا نے تعلیمی اداروں میں مذہبی تقریبات پر پابندی عائد کی ہے جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ ملک کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں مذہبی تقریب پر پابندی عائد نہیں۔ وزیراعلٰی نے چیلنج کیا تھا کہ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں یوم الحسین (ع) کی اجازت ہے تو ثبوت لے آئیں، ہم جی بی میں بھی اجازت دیں گے۔ انہوں نے ایک ثبوت مانگا ہے اور ہم تین تین ثبوت لے آئے ہیں، اب انہیں چاہیے کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کریں۔

آغا راحت حسین الحسینی نے کہا کہ حکومت یوم الحسین (ع) کے انعقاد سے سلسلے میں بدنیتی دکھا رہی ہے اور نہیں چاہتی کہ یوم حسین (ع) کا انعقاد ہو۔ جب پورے ملک میں یوم حسین (ع) کا انعقاد باقاعدگی کے ساتھ ہوتا ہے تو گلگت بلتستان میں انہیں پریشانی کیوں ہے اور یہ سب کس لئے ہو رہا ہے۔

آغا راحت حسینی نے کہا کہ یوم حسین (ع) منانے کے جرم میں جن طلباء پر دہشتگردی کا مقدمہ بنایا گیا اور جن افراد کو گرفتار کیا گیا وہ بھی افسوسناک ہے۔ حکومت معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے یوم حسین (ع) سمیت دیگر مذہبی تقریبات کی اجازت دے۔

آغا راحت حسینی وزیراعلٰی گلگت بلتستان کے چیلج کو قبول کرتے ہوئے شواہد لے آئے لیکن اب کہ بار سربراہ حکومت کس طرح قلا بازی کھاتے ہیں، وہ آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا۔ یہ سربراہ حکومت مولانا حافظ حفیظ الرحمان کا امتحان ہے کہ وہ اپنی زبان پر قائم رہتے ہیں یا آئیں، بائیں، شائیں کرکے معاملے کو گول مول کرتے ہیں۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬