‫‫کیٹیگری‬ :
09 November 2016 - 14:24
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424364
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یمن پر سعودیہ عربیہ کے حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عصر حاضر میں دنیا کو محبتوں سے خالی بتایا اور کہا: بعض ممالک میں صدر جمھوریہ الیکشن کے امیدوار دو ایسے افراد ہوئے کہ جو خود اپنے فساد کے معترف ہیں اور دنیا پر رھبریت کے دعوے دار ہیں ، افسوس اس دنیا پر جس کی باگ و ڈور اور رھبریت ان کے ہاتھوں میں ہوگی ۔
آیت الله مکارم شیرازی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے آج صبح اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوا ، رسول اسلام (ص( سے منقول حدیث کی جانب اشارہ کیا اور کہا: بت ، ساده ‌ترین معبوده ہیں انسان جس کی پرستش کرسکتا ہے ، مگر هوای نفس، درهم و دینار اور عھدہ و مقام بھی دیگر بت ہیں کہ لا اله‌ الا الله اور وحدانیت پروردگار تک پہونچنے کے لئے انہیں توڑنے ضروری ہے ۔

اس مرجع تقلید نے یمن میں ہونے والی جنایتوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: آج درهم و دینار کے بت سعودیہ عربیہ کے ہاتھوں میں ہیں کہ جس کے ذریعہ تمام عالمی مراکز کو اپنی منشا اور مرضی کے مطابق خرید رکھا ہے ، سعودیوں نے تمام الھی اور اخلاقی قانونین کو زیر پا رکھتے ہوئے یمن اور دیگر مناطق میں آتش جنگ شعلہ ور کر رکھی ہے ۔  

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے سوشل میڈیا ، فساد ، تخریب ، خاندانوں کو بکھیرنے والے وسائل کو بھی بت کا نام دیتے ہوئے کہا: عہدہ اور مقام بھی ایک ایسا بت ہے جس کی بقا میں لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ، دھوکہ دیتے ہیں تاکہ اپنے سیاسی یا غیر سیاسی عہدے کی حفاظت کرسکیں ۔

انہوں یمن کو دنیا کی امتحان گاہ جانا اور کہا: سعودیہ کے پاگل حکمراں انیس مہینے سے انسان کشی ، تباہی ، آتش افروزی میں مشغول ہیں ، ای کاش دوسرے سکوت کرتے مگر افسوس سعودیہ کی مدد کر رہے ہیں ۔

اس مرجع تقلید نے مزید کہا: انگلینڈ کے ایک پیپر نے یمن میں مارے جانے والوں کی تعداد کا تذکرہ کرتے ہوئے شدید انتقاد کیا کہ انگلینڈ حکومت نے اس جنگ میں دو ارب ڈالر کی مدد کی ہے ، نہایت افسوس کا مقام ہے کہ انہوں نے ھمدردی کا اظھار نہیں کیا ، انسانی حقوق کی مراعات نہیں کی بلکہ ان کے قتل عام میں سھیم رہے ہیں ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے حکومت انگلینڈ کی اس بات کے جواب میں کہ اگر ہم نہ دیں گے تو کوئی اور دے گا بیان کیا: کربلا میں ابن زیاد کے لشکریوں نے بھی یہی کہا تھا کہ اگر ہم اہل حرم کا ساز و سامان نہ لوٹیں گے کوئی اور لوٹے گا ، یہ یزیدیوں کی ثقافت ہے ۔

انہوں نے دنیا کو محبتوں سے خالی بتایا اور کہا: جب ایک حکومت دو ارب ڈالر کا اسلحہ مرد و عورت ، بچے اور بوڑھے کا قتل عام کے لئے فروخت کرے تو واضح ہے کہ دنیا محبتوں اور اخلاقیات سے خالی ہوچکی ہے ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یمن پر سعودیہ عربیہ کے حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عصر حاضر میں دنیا کو محبتوں سے خالی بتایا اور کہا: بعض ممالک میں صدر جمھوریہ الیکشن کے امیدوار دو ایسے افراد ہوئے کہ جو خود اپنے فساد کے معترف ہیں اور دنیا پر رھبریت کے دعوے دار ہیں ، افسوس اس دنیا پر جس کی باگ و ڈور اور رھبریت ان کے ہاتھوں میں ہوگی ۔   

اس مرجع تقلید نے مزید کہا: جب دین نہ ہوں تو محبتوں کی بھی امید نہیں رکھنا چاہئے ، اس وقت تک جب تک دنیا انبیاء الھی کی تعلیمات سے دور رہے گی ، فاسد ، ظالم اور منفعت پرست افراد دنیا کے حکمراں رہیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا: بعض حکومتیں ایک حکومت کو اسلحہ فراھم کررہی ہیں تاکہ یمن ویرانے میں بدل جائے ، ان سے ہمارا سوال ہے کہ کیا یہ ویرانے پر حکومت کریں گے ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۶۹۷

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬