‫‫کیٹیگری‬ :
10 November 2016 - 00:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424370
فونت
آيت ‎الله جوادی آملی:
حضرت آيت ‎الله جوادی آملی نے کہا: صاحبان میڈیا اور اسپیکر ایک دوسرے کی بدگوئی نہ کریں ، یہ غیبت اور تکذیب ایک جہنمی حیات ہے ، عصر حاضر میں بہت کم ایسے میڈیا ہیں جو ایک دوسرے کی بدگوئی سے محفوظ ہوں کہ جو ایک جہنمی زندگی ہے ۔
آیت الله جوادی ‌آملی


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آيت الله عبد الله جوادی آملی نے آج اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر سوره مباركہ حجرات کی اخری ایتوں کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: انسانوں کے درمیان فرق و تفاوت ان کی فضلیت کا سبب نہیں ہے بلکہ پروردگار عالم نے اسے ایک دوسرے کی شناخت کے لئے رکھا ہے ، اور ان میں سے جو سب سے زیادہ متقی و پرھیزگار ہوگا صاحب کرامت و فضلیت ہے ، یہ کرامتیں تقوی الھی کا سبب اور تقوی کرامت کا سبب ہے ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بہشتی لوگ اپنے سینے میں کسی کا کینہ نہیں رکھتے کہا: وہ دین داراور مومن لوگ جن کا طرز زندگی بہشت کی زندگی کی طرح ہے ،  خداوند متعال سے ان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ ان کے دلوں میں کسی کا کینہ نہ رہے ، صاحبان میڈیا اور اسپیکر ایک دوسرے کی بدگوئی نہ کریں ، یہ غیبت اور تکذیب ایک جہنمی حیات ہے ، عصر حاضر میں بہت کم ایسے میڈیا ہیں جو ایک دوسرے کی بدگوئی سے محفوظ ہوں کہ یہ ایک جہنمی زندگی ہے ۔

عصر حاضر میں قران کریم کے مفسر کبیر نے کہا: اگر کوئی کہے کہ میں مومن ہوں تو ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم کہیں کہ تو مومن نہیں ہو ، کیوں کہ ہمیں کسی کے اسرار اور اس کے دل کی کوئی خبر نہیں ہے فقط ذات پروردگار ہے جو دوسروں کے دلوں کے حالات سے اگاہ ہے لھذا فرمایا کہ اگر کوئی سفر میں یا حضر میں یہ کہے کہ میں مومن ہوں تو تم اس کے مومن ہونے کا انکار نہ کرو ، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جب تک حقیقت آشکار نہ ہوجائے کسی کو بے ایمان نہ کہیں ، اور جو خداوند متعال نے بعض اعراب کے جواب میں کہ جب انہوں نے مرسل آعظم (ص) سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہم ایمان لے آئے تو خداوند متعال نے فریاما کہ ای نبی (ص)  ان سے کہ دو کہ ابھی تم ایمان نہیں لائے ہو اسلام لائے ہو تو اس کی بنیاد یہ ہے کہ وہ انسانوں کے دلوں کے حالات سے آگاہ ہے لھذا اسے اس طرح کی باتوں کے کہنے کا حق ہے  ۔

انہوں نے یاد دہانی کی : گناہیں انسان کے دلوں میں تالا ڈال دیتی ہیں ، کہ نہ فطرت کا پیغام اندر سے باہر آپاتا ہے اور نہ ہی معلمین اور استاذہ اور مبلغین کا پیغام باہر سے ان کے اندر جا پاتا ہے ، جیسے اگر کسی کو جیل میں بند کردیں تو نہ اسے باہر کی آواز سنائی دے گی اور نہ ہی اس کی آہ  و بکا و فریاد کی آواز باہر والوں کو سنائی دے گی ، لھذا اس نے فرمایا کہ ایمان تمھارے دلوں میں نہ اتر پایا ، انبیاء کی باتیں نئی نہیں ہیں ، وہ تمھارے وجود میں انقلاب لانے کی غرض سے مبعوث ہوئے تاکہ تمھارے سوئے ضمیر کو بیدار کرسکیں ورنہ ایسا نہیں ہے کہ اس نے ہمیں بغیر سرمایہ کے اس دنیا میں بھیج دیا ہو  ۔

حضرت آيت الله جوادی آملی نے اس بات کی جانب  اشارہ کرتے ہوئے کہ پروردگار نے انسانوں کو بغیر سرمایہ کے اس دنیا میں نہیں بھیجا کہا: حوزات علمیہ اور یونیورسٹیز میں دی جانے والی تعلیمات ھرگز ابتداء خلقت سے اس دنیا میں نہ تھی ، دنیا میں پیدا ہونے والے کو اس بات کی خبر نہیں کہ آگ گرم ہے اور برف سرد ، انسان ان باتوں کو اپنے تجربات کے ذریعہ سمجھتا ہے ، پھر ایسا نہیں کہ انسان کا باطن بلکل کورا اور تمام باتوں سے خالی ہو ، پروردگار نے ان علوم کو اس کے اندر قرار دیا ۔ لھذا انسان حوزہ علمیہ اور یونیورسٹیز میں پہونچ کر ایسے علوم کی تعلیم حاصل کرے جو پروردگار کی مرضی کے مطابق ہے وگرنہ مشکلات سے روبرو ہوگا ، اگر دلوں میں تالے لگے رہیں تو انبیاء الھی کس طرح اپنی باتیں دلوں میں اتار سکتے ہیں ، اور ابتداء خلقت میں ہی انبیاء کا معجزہ دیکھانا ضروری نہیں ہے ۔

انہوں نے بیان کیا: اس نے اعراب سے کہا کہ ابھی ایمان تمھارے دلوں میں نہیں اترا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ایمان لانے کا موقع ہے ، ایمان لے آو تو تمھارے اعمال بھی محفوظ رہیں گے کچھ بھی ان میں سے کم نہ ہوگا ، تم جو بھی اچھا کام کرو گے وہ سب کا سب ذخیرہ کردیا جائے گا ، کیوں کہ تاکید ہے کہ ھر انسان اپنے نیک اعمال کے ساتھ قیامت میں پہونچے «من جاء بالحسنة فله خير منها» ، یعنی جو بھی قیامت میں نیک عمل لے کر آئے گا خداوند متعال اسے اس بھی بہتر دے گا ۔

حوزہ علمیہ قم میں تفسیر قران کریم کے برجستہ استاد نے  اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کوئی بھی اس دنیا میں قفل شدہ دل کے ساتھ نہیں آتا کہا: دلوں کی چابھی خود انسانوں کے ہاتھ میں ہے ، کہ اگر خدا کی طرف گھماو گے تو یہ تالا کھل جائے گا ، اور اگر شیطان کی جانب گھماو گے تو تالا بند ہوجائے گا ، اسی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ دعا دلوں کی چابھی ہے جو خود ہمارے ہاتھوں میں ہے لھذا یہ باتیں نہ عربوں سے مخصوص ہیں اور عجموں سے بلکہ دونوں ہی کے شامل حال ہیں ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۹۵۷

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬