08 December 2016 - 12:04
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424941
فونت
بہرام قاسمی :
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا : سعودی عرب منی میں ہونے والے حادثے میں جانوں کی ضیا پر جواب دینے کی بجائے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔
بہرام قاسمی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا : خلیج فارس تعاون کونسل کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے خلیج فارس تعاون کونسل کو غیر علاقائی طاقتوں کے ساتھ  مل کر خطے میں کشیدگی پیدا کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

انہوں نے خلیج فارس تعاون تنظیم کو خبردار کرتے ہوئے کہا : خلیج فارس تعاون تنظیم ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلاف پیدا کرنے کی کوشش نا کرے۔

بہرام قاسمی نے ایران نے ابو موسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک جزیروں کے بارے میں خلیج  فارس سربراہ کونسل کے بیانیہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا : یہ تینوں جزیرے ایرانی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان جزیروں کو ایران سے جدا نہیں کرسکتی اور ایران کے خلاف کے بے بنیاد الزامات لگا کر ایران کی ان جزیروں پر حاکمیت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا : ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور ایران ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے اور خلیج فارس تعاون تنظیم سے بھی اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ وہ ایران پر من گھڑت بے بنیاد الزامات سے گریز کریں اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلات نا کرے۔

انہوں نے کہا : ایران عالمی تنظیموں کے اجلاسوں میں اپنے خلاف لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات پر عالمی قوانین کے مطابق جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا : خلیج فارس تعاون کونسل کو غیر علاقائی ممالک کے ساتھ ملکر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

بہرام قاسمی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : یہ بات افسوس ناک ہے کہ سعودی عرب منی میں ہونے والے حادثے میں جانوں کی ضیا پر جواب دینے کی بجائے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۳۹۸/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬