05 January 2017 - 20:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425505
فونت
حسین سلامی
اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف بریگیڈیئر جنرل نے دشمنوں کی طرف سے ایران کے خلاف سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو زمین میں دفن کر دیا جائے گا۔
جنرل حسین سلامی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی نے مدافعین حرم اور یزد کے ایٹمی شہداء کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا : امریکہ جان لے کہ سرزمین ایران میں ان تمام جارحین کو دفن کر دیا جائے گا جو اس کی سرحدوں کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش بھی کریں گے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں وضاحت کرتے ہوئے کہا : اب طاقت کی کوئی علامت باقی نہیں رہ گئی ہے اور تمام سازشیں نہ صرف ناکام ہو گئی ہیں بلکہ سازش کرنے والوں کی جانب موڑ دی گئی ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر نے تاکید کرتے ہوئے کہا : دشمن ہمیں جنگ کے ذریعے کمزور کرنا چاہتا تھا لیکن ہم ایک عظیم میزائلی، بحری اور بری طاقت بن کر ابھرے اور اگر تمام شیاطین اکٹھا ہو جائیں تب بھی ایران کی طاقت کو شکست نہیں دے سکتے۔

جنرل حسین سلامی نے کہا : اگر وہ ہمارے علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش نہ کرتے تو ہم بھی آج شام، لبنان، فلسطین اور عالم اسلام میں اتنے مضبوط نہ ہوتے۔

انہوں نے دشمن کو ایران کی ترقی کا عامل جانتے ہوئے کہا : ہم نے اپنی طاقت اتنی بڑھا لی ہے کہ امریکہ پر بھی غالب آسکتے ہیں اور آج ہم نے یہ حقیقت سمجھ لی ہے کہ شیطان پر غلبہ حاصل کرنے میں مومن کی روح کو کبھی ناکامی نہیں ہوگی اور وہ ناقابل شکست اور ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔

سپاہ پاسداران کے ڈپٹی کمانڈر انچیف نے کہا : ایران کے طاقتور میزائل فائر ہونے کے لئے تیار ہیں اور ہماری بےپناہ عوامی رضاکار فورس اور بری و بحری افواج پوری طرح سے صف آراء اور پرعزم ہیں۔

جنرل حسین سلامی نے قائد انقلاب اسلامی کی آئمہ اطہار کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ہمارے رہبر عظیم الشان، دشمن کے مقابلے میں پورے وقار، اعتماد بہ نفس اور سکون قلب کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۳۹۸/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬