‫‫کیٹیگری‬ :
01 September 2017 - 23:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429756
فونت
نماز عیدالاضحی پورے ایران میں مساجد امامبارگاہوں اور مقدس مقامات میں بڑی ہی شان و شوکت کے ساتھ ادا کی گئی جس میں کروڑوں کی تعداد میں مومنین نے شرکت کی
آیت اللہ امامی کاشانی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں مرکزی نماز عیدالاضحی مصلائے امام خمینی میں آیت اللہ  امامی کاشانی کی امامت میں انتہائی پرشکوہ انداز میں اداکی گئی -

تہران کی مرکزی نماز عیدالاضحی کے خطیب آیت اللہ امامی کاشانی نے کہاکہ عالم اسلام کے مسائل و مشکلات اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے مصائب وآلام پر  توجہ دینا ہی حج ابراہیمی کے مناسک کا فلسفہ وجودی ہے - آیت اللہ امامی کاشانی نے تہران کی مرکزی نمازعیدالاضحی کے خطبوں میں خانہ خدا کی جانب سفر، مکہ میں مسلمانوں کے اجتماع اور دنیا کے موجودہ حالات کے پیش نظر امت اسلامیہ کی بیداری اور ساتھ ہی مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دینے کو مناسک حج کا فلسفہ بتایا -

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے اور حج کا فلسفہ بھی یہی ہے اور امت اسلامیہ کو چاہئے کہ وہ  اپنی حکومتوں سے کہے اس وقت مسلمانوں کے مفاد میں کیا چیز ہے - تہران کے خطیب نماز عیدالاضحی نے کہا کہ آج جب عالمی سامراج نے اس قدر فتنے و فساد برپا کررکھے ہیں اور اس کے ایجنٹوں نے مسلمانوں کے لئے اقتصادی مشکلات کھڑی کردی ہیں اور مسلمان ملکوں میں بدامنی اور اختلاف کو پھیلا رکھا ہے تو ایسے میں سبھی مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کریں-

آیت اللہ امامی کاشانی نے دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگ و خونریزی پھیلانے میں عالمی سامراج اور بین الاقوامی صیہونیز نیز دشمنان اسلام کی سازشوں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اسلامی ملکوں کے علما اور آئمہ جمعہ کو چاہئے کہ وہ فلسطین ، یمن اور شام کی صورتحال اور علاقے میں امن کی برقراری اور مشکلات کے خاتمے کے تعلق سے عالم اسلام کے مفادات پر توجہ دیں-

ان کا کہنا تھا کہ آج کے عالم اسلام کو امامت اور ولایت فقیہ کی ضرورت ہے - آیت اللہ امامی  کاشانی نے کہاکہ باہمی اتحاد کی تقویت اور عالم  اسلام کے سبھی مسائل کے حل پر توجہ ایک شرعی فریضہ ہے اور سبھی اسلامی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ عالم اسلام کے مفادات کو مدنظر رکھیں۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬