12 September 2017 - 21:26
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429917
فونت
حسین امیرعبدالھیان :
ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی نے کہا : ہم یورپی یونین اور نیڈرلیندز سے ایسے وحشیانہ اقدامات کی مخالفت اور ان کو روکنے کے لئے بھرپور کوشش کرنے کا انتظار کررہے ہیں۔
میانمار

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ ہم یورپی یونین بشمول نیدرلینڈ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ میانمار میں ہونے والے جرائم کے خلاف مؤقف اپناتے ہوئے انسانی بحران کو روکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بات حسین امیرعبدالھیان نے منگل کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں تعینات نیدرلینڈ کی خاتون سفیر سوزانا ٹریستل کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر انہوں نے بڑھتی ہوئی تعلقات پر اپنے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمانوں کے درمیان مذاکرات باہمی تعاون کی سہولتیں فراہم کرسکتا اور ایرانی مجلس پارلمیانی وفدوں کے تبادلات کا خیرمقدم کرتا ہے۔

امیرعبداللہیان نے میانمار میں مظلوم روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم یورپی یونین اور نیڈرلیندز سے ایسے وحشیانہ اقدامات کی مخالفت اور ان کو روکنے کے لئے بھرپور کوشش کرنے کا انتظار کررہے ہیں۔

انہوں نے شام میں سیاسی تبدیلیوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف شامی فوج کی حالیہ کامیابیوں کی بنا پر اس ملک امن کی طرف قدم آگے بڑھ رہا ہے۔

نیڈلیندز کی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعلقات کی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کے مفادات کے لئے پارلیمانوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔

ترستال نے میانمار کی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام بہت ہی وحشیانہ اقدام ہے جو ہمارے میڈیا اس کا جائزہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شامی بحران صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعہ حل ہوسکتا ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬