‫‫کیٹیگری‬ :
09 October 2017 - 10:06
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430297
فونت
لاہور پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے اور عوامی اطمینان قلب کیلئے پرانا حلف نامہ بحال کرکے اور اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کے پس پردہ حقائق کی جانچ پڑتال کیلئے کمیٹی تشکیل دے کر اچھا اقدام کیا ہے۔
ختم نبوت سمینار

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چیئرمین پاکستان یونائیٹڈ کونسل اور ناظم ذیلی تنظیمات مرکزی جمعیت اہلحدیث ڈاکٹر عبدالغفور راشد کی زیرصدارت لاہور پریس کلب میں عقیدہ ختم نبوت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے واضح کیا ہے کہ ختم نبوت پر غیر متزلل یقین ایمان کا حصہ ہے۔ صحابہ کرام خصوصاً خلفا راشدین سید الانبیا کے آخری نبی ہونے کے عقیدہ کے محافظین رہے ہیں، جن میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سر فہرست ہیں، جنہوں نے مسیلمہ کذاب اور اشود عنسی سمیت 5 منکرین ختم نبوت کیخلاف جنگ کرکے ثابت کر دیا کہ اسلام کے بنیادی عقائد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، ختم نبوت عقیدہ ہے، جو تبدیل نہیں ہو سکتا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، وہ اسلامی شعار استعمال نہیں کر سکتے۔ سیمینار سے مولانا عبدالروف فاروقی، میاں محمود عباس، حافظ ممتاز حسین، مفتی عاشق حسین بخاری، مولانا حسین احمد اعوان، مولانا یونس حسن، ڈاکٹر عبدالغفار رندھاوا اور دیگر نے بھی عقیدہ ختم نبوت کے مختلف تاریخی اور اسلامی پہلووں پر روشنی ڈالی۔

سیمینار سے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عقیدہ ختم نبوت کی پہرہ داری اور تبلیغ کی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد مختلف 5 افراد نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا جبکہ برصغیر میں جھوٹی نبوت کے فتنے کا موجد مرزا غلام احمد قادیانی تھا، جس کیخلاف تمام مکاتب فکر نے جدوجہد کی۔ اس حوالے سے اولین فتویٰ اہلحدیث عالم دین سید نذیر حسین نے دیا۔ فاتح قادیان کے نام سے معروف مولانا ثنااللہ امرتسری اہلحدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ معرکتہ الآرا کتاب شہادت القرآن کے مصنف مولانا ابراہیم سیالکوٹی، امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث سینیٹر علامہ ساجد میر کے جد امجد تھے۔ پروفیسر ساجد میر ختم نبوت پر نہ صرف پختہ عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ وہ اور ان کی جماعت کا ہر کارکن ناموس رسالت پر جان قربان کرنے کیلئے بھی ہر وقت تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیر محترم نے موجودہ صورتحال میں ایک لفظ پر علمی نقطہ اٹھایا، جس پر کچھ جاہل مولوی میدان میں آگئے۔ افسوس ان میں سے ایک اہلحدیث مدرسوں اور جماعتوں کا بھگوڑا بھی شامل ہے۔ جو باقاعدہ طور پر کسی سرکاری یا غیر سرکاری تعلیمی ادارے سے سند یافتہ تو نہیں، مگر اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال ضرور کرتا رہتا ہے، مگر ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا، اس کی سینیٹر ساجد میر پر تنقید چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مقتدر قائدین و علما مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، سینیٹر سراج الحق، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر حافظ سعید، پیر اعجاز احمد ہاشمی، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر جیسی شخصیات نے حلف نامے کے الفاظ کے مسئلے کو اچھالا اور نہ ہی چیلنج کیا۔ ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے اور عوامی اطمینان قلب کیلئے پرانا حلف نامہ بحال کرکے اور اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کے پس پردہ حقائق کی جانچ پڑتال کیلئے کمیٹی تشکیل دے کر اچھا اقدام کیا ہے۔

انہوں نے ختم نبوت کے سلسلے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے افواج پاکستان کے پختہ یقین کے اظہار کو قابل تحسین قرار دیا۔ مولانا عبدالروف فاروقی نے کہا کہ ختم نبوت عقیدہ ہے، جو تبدیل نہیں ہو سکتا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، وہ اسلامی شعار استعمال نہیں کر سکتے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬