‫‫کیٹیگری‬ :
06 June 2018 - 19:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436186
فونت
رسا نیوزایجنسی کی کوشش سے؛
رسا نیوز ایجنسی نے بین الاقوامی ماھرین اور تجزیہ نگاروں کی شرکت میں" اسلامی تہذیب، استقامتی اسٹریٹیجی" کی سلسلہ وار علمی نشست کا " فلسطین، پیشگی دفاع " کے عنوان سے انعقاد کیا ۔
علمی نشست فلسطین، پیشگی دفاع

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، رسا نیوزایجنسی کے زیر اھتمام " اسلامی تہذیب، استقامتی اسٹریٹیجی" کی سلسلہ وار علمی نشست کا " فلسطین، پیشگی دفاع " کے عنوان سے رسا نیوزایجنسی کے کانفرنس حال میں انعقاد کیا گیا ۔

اس رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین محسن محمدی اور استاد علی رضا سلطان شاهی نے اس نشست میں تقریر کی نیز حجت الاسلام محسن مؤمنی نے اس نشست میں نظامت کے فرائض انجام دئے ۔

یہ نشست علاقہ میں ایران کی موجودگی کے حوالے سے موجود شبھات کے جوابات کے لئے منعقد کی جارہی ہے ۔
 

                              

حجت الاسلام محسن مؤمنی نے اپنی نظامت کے آغاز میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عالمی سامراجیت اپنے تمام جاہ و حشم اور امکانات کے ساتھ علاقہ میں ناکامی سے روبرو ہے کہا: فلسطین کا آئڈیل اسلامی تہذیب کی دستیابی ہے کہ جو درحقیقت ایک بنیادی اسٹریجٹیک شمار کی جاتی ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ایران کیوں فلسطین میں موجود ہے کہا: فلسطین کے لئے جو آئڈیل تصور کیا جاتا ہے وہ اسلامی تہذیب کا قیام ہے ، ایران بھی اسی مقدس مقصد کی دستیابی کے لئے فلسطین میں موجود ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: رسا نیوزایجنسی کے زیراھتمام " اسلامی تہذیب، استقامتی اسٹریٹیجی" کی سلسلہ وار علمی نشست کا " فلسطین، پیشگی دفاع " کے عنوان سے انعقاد بھی انہیں شبھات کی جوابدہی کے لئے کیا گیا ہے ، تاکہ بین الاقوامی ماھرین اور تجزیہ نگاروں کے ٹھوس جوابات سے معاشرہ کو آگاہ کیا جاسکے ۔

حجت الاسلام مؤمنی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت ایک طرح سے غاصب صھیونیت کی حامی کی حکومت تھی کہا: اس حوالہ سے کہ بہائیت کا رضا شاہ پہلوی کے دربار میں اثرو رسوخ تھا ، رضا شاہ پہلوی کی حکومت ، غاصب صھیونیوں کو مادی اور معنوی امداد فراہم کیا کرتی تھی ، مگر انقلاب اسلامی کی پیروزی کے فورا بعد ہی حضرت امام خمینی رہ نے اس غاصب کو کینسر کے ٹیومر کا نام دے کر اسلامی جمھوریہ ایران کو ایک نئے مرحلہ میں داخل کردیا ۔

انہوں ںے علاقہ کی حالیہ تبدیلی میں غاصب صھیونیت کے دارالحکومت کو قدس شریف منتقل کئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اگر ملتیں میدان میں موجود رہیں اور تبدیلیوں کی بہ نسبت عکس العمل پیش کرتی رہیں تو یقینا ہم اچھے پیغامات کے شاھد ہوں گے اور اگرغفلت برتی تو یقینا بدترین مشکلات سے روبرو ہوں گے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکا نے در حال حاضر یہ ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی معاھدہ کا پایبند نہیں ہے کہا: قدس شریف میں دار الحکومت کی منتقلی اور ایٹمی معاھدہ سے نکلنا اس بات پر کھلم کھلا ثبوت ہے ۔

حجت الاسلام مؤمنی نے جولان کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے حوالے سے غاصب صھیونیت کی دعوے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: یہ علاقہ کئی ممالک کے درمیان موصلاتی پل کی صورت رکھتا ہے کہ اگر یہ غاصب اسرائیل اسے اپنا حصہ قرار دینے میں کامیاب ہوجائے تو علاقہ کی حالت کچھ اور ہی ہوگی نیز بلاشک فلسطینیوں کا قتل عام بھی اسی کا حصہ ہوگا ۔

انہوں نے درحال حاضر غاصب صھیونیت کے ہاتھوں 64 فلسطینیوں کی شھادت اور مختلف گروہوں کی جانب سے عکس العمل اور مناسب موقف پیش نہ کئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اس سلسلہ میں فقط جس فرد نے عکس العمل پیش کیا وہ رهبر معظم انقلاب اسلامی کی ذات گرامی تھی مگر دیگر سیاسی اور سماجی پارٹیوں اور گروہوں نے اس میدان میں کوئی قدم نہیں اٹھایا کہ جس پر توجہ ضروری ہے ۔
 

                                                                      

تہذیبی نقطہ نظر، فلسطین سے ایران کی حمایت کی بنیاد

بین الاقوامی امور کے ماھر حجت الاسلام والمسلمین محمدی نے اس نشست میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی حمایت کی دو صورت «فلسطین فی نفسه» و «فلسطین ، اسرائیل کے مقابل» قابل تصور ہے کہا: سب سے پہلے خداوند متعال نے فلسطین کی حمایت کا اعلان کیا ، کیوں کہ جب نبوت کا گفتگو چھڑی تو حضرت ابراھیم علیھم السلام کو حکم ہوا کہ وہ شام یعنی موجودہ فلسطین میں ساکن ہوں ، اس طرح انبیاء علیھم السلام کے قدم اس سرزمین تک پہونچے ۔

انہوں نے مزید کہا: مسجد الاقصی ، پیغمبر اکرم(ص) کی معراج اور ایک مدت تک اس سرزمین کا مسلمانوں قبلہ اول ہونا تمام کا تمام اس سرزمین کی اہمیت کی نشانی ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین محمدی نے یہ کہتے ہوئے کہ تہذیبی نقطہ نظر، فلسطین سے ایران کی حمایت کی بنیاد کہا: ایک طرف فلسطین دنیا کے اس اہم نقطہ پر واقع ہے جو ایشیا، یوروپ اور افریقہ کو ایک دوسرے جوڑتی ہے ، دوسری طرف چونکہ ایک اقتصادی سنٹر شمار کیا جاتا ہے خاص امنیت کا حامل ہے ، لہذا یہ علاقہ جس گروہ کے اختیار میں ہوگا بلا شک وہ اپنے عقائد دنیا کے دیگر گوشہ میں پھیلائے گا ، لہذا اسلامی تہذیب کی توسیع میں فلسطین کی خاص اہمیت ہے ۔
 

                                                      

فلسطین اور قدس شریف سے ہماری حمایت کی اصلی بنیاد ، دین اور دینی اقدار ہیں

بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگار استاد سلطان شاهی نے اس سلسلہ میں بیان کیا: فلسطین اور قدس شریف سے ہماری حمایت کی اصل بنیاد ، دین اور دینی اقدار ہیں ، درحقیقت ہم اپنے اعتقادات کی بنیاد پر اس سرزمین کا دفاع اور اس کی حمایت کررہے ہیں ، اس سرزمین کی جو اہمیت ہے اس حوالے سے ہزاروں اسلامی جمھوریہ اس کی آزادی کی کوشش کریں ۔

انہوں نے تاکید کی:  فلسطین اور قدس شریف، دروازه آسمان اور محل بعثت انبیای الهی ہے نیز پیغمبر اکرم(ص) کی معراج کا مقام ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ، لہذا ہم در حقیقت اپنے اعتقادات کی بنیاد پر اس سرزمین کا دفاع کررہے ہیں ۔

سلطان شاهی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سرزمین مقدس فلسطین، دنیا کے بدترین افراد کے قبضے میں  ہے کہا: قران کریم کی بنیاد پر یہ قوم بدعهد ، دنیا کی لالچی اور پیغمبروں کی قاتل ہے ، ایک موحد ہونے کے ناطے اس سرزمین کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے ۔/۹۸۸/ ۹۷۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬