‫‫کیٹیگری‬ :
22 July 2018 - 23:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436669
فونت
سید سبطین حیدر سبزواری :
اسلامی تحریک صوبہ پنجاب کے صدر نے کہا کہ کالعدم تنظیم کے سرغنے کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملنا عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کے لیے سوالیہ نشان ہے ۔
 سید سبطین حیدر سبزواری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تحریک صوبہ پنجاب کے صدر اور متحدہ مجلس عمل کے صوبائی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے، دینی جماعتوں کی انتخابی مہم سے سیکولر قوتیں اور اتحاد امت کے عملی مظاہرے سے انتہا پسند دہشتگرد تکفیری عناصر کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں۔

25 جولائی کو علامہ ساجد علی نقوی سے محبت کرنیوالے قائد کے فرمان ہے جان بھی قربان ہے، کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کا نشان روشنی اور ہدایت کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی کتاب اللہ قرآن مجید کا پیروکار ہے، اسے ووٹ متحدہ مجلس عمل ہی کو دینا چاہیے۔ پانچ دینی جماعتوں کے اتحاد نے انتہا پسندی کی کمر توڑ دی ہے۔ فیصل آباد اور رحیم یار خان میں شاہ اویس نورانی، ڈاکٹر جاوید اختر ، مولانا سردار محمد خان لغاری اور دیگر رہنماوں کے ہمراہ ایم ایم اے کے انتخابی جلسوں سے خطابات کے بعد لاہور میں کارکنوں سے گفتگو میں علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ ایم ایم اے کے امیدوار بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ نظام مصطفی کے نفاذ اور ملکی مسائل کے حل کیلئے عوام کے پاس متحدہ مجلس عمل کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، کیونکہ ایم ایم اے کی قیادت دیانتدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سوچ سمجھ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے کرپٹ عناصر سے نجات کیلئے ایم ایم اے کو ووٹ دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا واحد حل اسلامی نظام کا نفاذ ہے، جس کیلئے متحدہ مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد انتخاب کے بعد بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعتوں کے قائدین علامہ ساجد علی نقوی، مولانا فضل الرحمان، پیر اعجاز ہاشمی، پروفیسر ساجد میر اور سراج الحق پر کرپشن کا کوئی داغ ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی بینک سے قرضہ لے کر معاف کروایا ہے۔

علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ کالعدم تنظیم کے سرغنے کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملنا عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کے لیے سوالیہ نشان ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬