‫‫کیٹیگری‬ :
01 August 2018 - 18:43
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436757
فونت
شادی میں "کفویت" کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے ، میاں بیوی کی علمی کفویت بھی اس قاعدے اور قانون سے الگ نہیں ہے ، لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی ہمسری کے انتخاب میں عام شرائط کے بعد تخصصی معیاروں پر بھی توجہ کریں ۔
شادی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شادی ہر دور اور زمانہ کا سب سے اہم سماجی مسئلہ ہے رہا ہے ، شادی کے سلسلہ میں ہمیشہ کچھ باتیں سامنے رہی ہیں اور ہیں نیز بعض پر دین اسلام نے بھی تاکید کی ہے کہ عصر حاضر کہ مشاوریں اور ماھرین نفسیات نئے جڑوں کو اس بات کی جانب اشارہ کرتے رہتے ہیں ۔

ہم اس سلسلہ کی کچھ باتیں گذشتہ قسطوں میں بیان کرچکے ہیں اور اب اس مقام پر اس طرح کی مشکلات ہے سے بچنے کے لئے جو بسا اوقات طلاق کا باعث بھی بن چکی ہے ، کچھ چیزوں اور نکات کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔

ب: شادی کے ساتھ ساتھ تعلیمی ترقی: یہ چیز زوجین کی شخصیت میں بالندگی اور سماج کے اندر انسان کی حیثیت و منزلت بننے میں موثر ہے نیز تعلیمی کفویت میں بھی اثر انداز ہے ، یہ کام اس بات کا سبب ہے کہ میاں بیوی تعلیم و تحصیل کے میدان میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور دونوں ساتھ ساتھ ترقی کی راہوں پر گامزن رہیں ۔

بہت سارے مرد ایسے ہیں کہ جو اپنی بیوی کی علمی ترقی کے خواہاں ہیں مگر اس نکتہ پر توجہ ضروری ہے کہ بیوی کی تعلیم مرد کی تعلیمی ترقی کے برابر ہو البتہ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ عورت کو تعلیم سے روک دیا جائے بلکہ ہوسکتا ہے عورت کا تعلیم حاصل کرنا ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہورہا ہے کہ جیسے کبھی کبھی مرد کا تعلیم حاصل کرنا خانوادے کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے ۔

ج: ضروریات زندگی کا سیکھنا : ازوداجی زندگی میں یہ چیز اہم ترین چیز ہے، اور اتنا زیادہ اہم ہے کہ حتی اگر پہلے دو موارد کو ندیدہ بھی قرار دے دیا جائے تو اس سے چشم پوشی ناممکن ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۷۸

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬