‫‫کیٹیگری‬ :
24 August 2018 - 21:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436953
فونت
بعض افراد کا کہنا ہے کہ علماء کا طبقہ بھی عام لوگوں کے مانند ہے لہذا انہیں بھی اپنی زندگی کے اخراجات کے لئے کام کرنا چاہئے ، دوسری جانب ان گروہوں کے حوالہ سے ثقافتی امور کی انجام دہی جیسے تصنیف و تالیف ، تقریر اور تعلیم کا شمار کام کرنے میں شمار نہیں کیا جاسکتا ۔
علماء

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، گوالا مولوی ، کسان عالم دین ، سبزی فروش طالب عالم وغیرہ وغیرہ یہ وہ عناوین ہیں جو وقت بوقت سوشل میڈیا کی صفحات پر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں ، بہت سارے لوگ ، علماء کے اس طریقہ کار کو پسند کرتے ہیں اور بہت سارے اس صنف کی ذمہ داریوں کو کچھ اور جانتے ہیں جو اس کے ساتھ یکجا نہیں ہوسکتی ، ہم اس سے پہلے کی تحریر میں‌ کچھ‌ باتوں‌ کی جانب اشارہ کرچکے ہیں اور اب کچھ باتوں‌ کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔

یہ روایت اور اس کے مانند روایتیں کہ جن کی تعداد کافی زیادہ ہے ، اس بات کی بیانگر ہیں کہ صدر اسلام کے بنیادی شبھات اور مسائل ، عصر حاضر کے مسائل سے قابل مقایسہ نہیں ہیں ، جیسا کہ سبھی آگاہ ہیں کہ اس طرح کے اعتقادی مسائل کی دینی مدارس میں ابتداء ہی میں تعلیم دے دی جاتی ہے ، تمام مسلمان بھی ان باتوں پر اعتقاد رکھتے ہیں عصر کے حاضر کے مبلغین نہ یہ کہ فقط اسلامی میراث سے بخوبی اگاہی حاصل کریں بلکہ فلسفہ اسلامی، فلسفہ غرب اور کلام جدید کی پیچیدہ علمی گتھیوں کو سلجھانے کے ساتھ ساتھ ، علم نفسیات ، سماجیات اور سیاست سے بخوبی آگاہی بھی نہایت ضروری ہے تاکہ جھموریت ، عدالت ، وحی ، دین ، انسانی معرفت اور اس کے رحجانات کے سلسلے میں موجود سوالوں کے جوابات دے سکیں ، چونکہ دین اسلام عصر حاضر کے مختلف قسم کے عمیق سوالات و شبھات سے روبرو ہے ، ماھرین اور متخصصین دین کا وظیفہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ اور تحقیق میں صرف کریں تاکہ دین کے سلسلہ میں موجود سوالوں کا درست جواب دیں سکیں ، موجودہ معاشرہ کے تقاضہ کے تحت مختلف طبقات کے لئے اسلامی طرز حیات کو قلم کی زبان سے بیان کرسکیں اور انہیں سوالوں کے جوابات دے سکیں ۔

اس علاوہ علماء کی حوزوی مسائل سے ہٹ کر دیگر امور میں مشغولیت اس بات کا سبب بنے گی وہ نہ تو کامیاب تاجر ہی بن سکیں اور نہ ہی مفید عالم دین ہی ، جیسا کہ پارسی زبان کا محاورہ ہے کہ " ایک ہاتھ سے دو تربوز نہیں اٹھایا جاسکتا " عصر حاضر میں انسانی حیات کا تخصصی ہونا اس بات باعث ہے کہ انسان ایک ہی فن پر متمرکز رہے ، البتہ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ علماء علم دین سے متعلق مسائل سے ہٹ کر کسی دیگر میدان میں اترنے کا حق نہیں رکھتے کیوں کہ ہوسکتا ہے ضرورت کے تحت کسی دیگر میدان میں بھی انہیں اترنا پڑے ۔

لہذا ہمیں صنف علماء سے اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ عصر حاضر کے علمائے کرام بھی اپنے زندگی کے گزارے کے لئے ، صدر اسلام کے صحابہ کرام ، دانشمندوں اور مسلمانوں کے مانند تبلیغ دین اسلام کے ساتھ ساتھ دیگر اقتصادی امور بھی انجام دیں یا کام کاج کریں کیوں کہ موجودہ حالات میں اب یہ چیز ممکن نہیں کیوں کہ دین کے ذبح ہونے کا سبب اور دشمن کے ثقافتی و اعتقادی پلٹ فارم پر شکست کا باعث ہے وہ دشمن جو ایک لمحہ بھی خاموش نہیں رہنا چاہتا ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۵

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں