18 November 2018 - 19:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437679
فونت
ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ :
ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ نے کہا : ہم خوشحال ہیں کہ ایرانی لوگ ہمیشہ سے درخشان و روشن ماضی کے ساتھ صلح و صفائی رکھتے ہوئے ہمارے ملک میں بہت کم مذہبی ودینی اختلافات و جھگڑے دیکھنے میں آتے ہیں۔
 ابوالحسن نواب

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ حجت الاسلام والمسلمین ابوالحسن نواب نے آج چوتھی میٹنگ  میں کہ جو امام علی رضا علیہ السلام اور گفتگوئے ادیان  کانفرنس کی مقدماتی میٹنگس کا حصہ تھی، "رضوی تعلیمات کے تحت خدامحوری پر تاکید" کے موضوع پر ادیان و مذاہب یونیورسٹی  قم میں منعقد تھی۔

اپنی تقریر میں عصر حاضر میں گفتگوئے ادیان کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ادیان یونیورسٹی کی افتتاح کا مقصد یہ تھا کہ بشری مشکلات کو برطرف کرنے کے لیے ایک نیا راستہ کھولا جائے ، عصر حاضر میں بشریت کی مشکل یہ ہے کہ آپس میں گفتگو نہیں کرتے بلکہ آپس میں اختلافات اور جھگڑتے رہتے اور جنگ و جدال کرتے رہتے ہیں  کہ جس سے ادیان و مذاہب میں بھی کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ادیان و مذاہب کی بہت زیادہ جنگیں واقع ہوئیں  اور یورپ و ایشیا میں بہت زیادہ خورریزیاں برپا ہوئی ہیں البتہ ہم خوشحال ہیں کہ ایرانی لوگ ہمیشہ سے درخشان و روشن ماضی کے ساتھ صلح و صفائی رکھتے ہوئےہمارے ملک میں بہت کم  مذہبی ودینی اختلافات و جھگڑے دیکھنے میں آتے ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین نواب نے کہا: ادیان و مذاہب یونیورسٹی اس فکر میں ہےکہ تمام ادیان و مذاہب کے بزرگوں اور دانشمندوں کےدرمیان گفتگو کا رواج قا‏ئم کرے تاکہ لوگوں کے درمیان اس گفتگو کے مفید اثرات دیکھے جاسکیں۔

ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا : خلفاء عباسی کے زمانے میں تمام ادیان و مذاہب آپس میں جنگ و اختلاف میں گرفتار تھے اس وقت حضرت اما م علی رضا علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ اس دشمنی کی گرد و غبار کو جھاڑا جائے اور سب سے گفتگو کی جائے اس زمانے میں رابطوں کی شکلیں مختلف تھیں اور آج بھی گفتگو و روابط کے طریقے عصر حاضر کے لحاظ سے ہونے چاہییں  اوریہ کانفرنس حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مقدس نام سے اور آستان قدس رضوی کے عظیم مقام کے پیش نظر اس راستہ کو مزید آگے بڑھایا جائے ۔

انہوں نے تذکر دیا : ہم ان کانفرنس و اجلاس سے صرف یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے ۔  /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬