‫‫کیٹیگری‬ :
05 January 2019 - 22:24
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439056
فونت
آیت الله سیدان نے بیان کیا:
حوزه علمیہ ایران میں درس خارج کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ معاشرہ کی نجات تقوائے الھی میں پوشیدہ ہے کہا: ہم جس قدر بھی متقی ہوں گے خود ہمارے فائدہ میں ہے ۔
آیت الله سیدان

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیہ ایران میں درس خارج کے استاد آیت الله سیدان نے اپنے ھفتہ وار درس اخلاق میں جو آج مدرسہ آیت الله العظمی سید ابوالقاسم خوئی رہ کے میں کثیر طلاب و افاضل حوزہ علمیہ کی شرکت میں منعقد ہوا ، تقوے کے فوائد اور نهج البلاغۃ میں موجود متقین کی نشانیوں کی تشریح کی ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امیرالمومنین علی (ع) نے نهج البلاغۃ میں ۵۰ سے زیادہ تقوے کی نشانیاں بیان کی ہیں کہا: تقوے کے تین مرحلہ ہیں ، نیک اعمال کی انجام دہی ، گناہوں سے دوری اور اخلاق حسنہ تقوائے الھی کے مراحل ہیں ۔

آیت الله سیدان نے مزید کہا: غلط حرکتوں سے پرھیز اور راہ راست کی جانب گامزن ہونا متقی ہونے کی نشانی ہے ۔

حوزه علمیه ایران میں درس خارج کے استاد نے متقین اور تقوے کے حوالے سے نهج البلاغه میں موجود کلمات کی جانب اشارہ کیا اورکہا: تقوا اور رضائے الھی میں عمل انجام دینے والوں کے سامنے، خداوند متعال راہ نجات قرار دیتا ہے ، البتہ نجات کا مطلب آسائش نہیں ہے بلکہ مشکلات کے ساتھ ساتھ سکون ہے کیوں کہ وہ بخوبی واقف ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی کہ جس کے نتیجہ میں اس کا سرانجام اچھا ہے اور سعادت ابدی اس کا مقدر ہے ۔

انہوں نے تقوا کے سلسلہ میں موجود سوره طلاق کی دوسری آیت کی تلاوت کی اور کہا: اپنے کردار اور گفتار میں گناہ سے پرھیز کرنے والا اور مرضی الھی کے مطابق قدم اٹھانے والا انسان، دنیا و آخرت دونوں ہیں میں کامیاب ہوگا ۔

آیت الله سیدان نے مزید کہا: خداوند متعال نے سوره طلاق کی ۴ ویں اور۷ ویں آیت میں متقین کو یہ بشارت دی ہے کہ ان کے مسائل کو حل کرے گا اور ان کی گناہوں کو بخش دے گا ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ انبیاء الھی علیھم السلام نے کام کاج کے ترک کرنے اور فقط عبادت الھی میں خود کو مشغول رکھنے کی شدید مذمت کی ہے کہا: روایتوں میں آیا ہے کہ پیغمبر(ص) ان لوگوں کو جو کام کاج چھوڑ کر فقط عبادت الھی میں مصروف رہتے تھے اور اس بات کے قائل تھے کہ ان کی روزی خداوند متعال ان تک خود پہونچائے گا خطاب کرتے ہوئے فرمایا: « تمھاری دعائیں مستجاب نہیں ہوں گی »

حوزه علمیه ایران میں درس خارج کے استاد نے بیان کیا: خداوند متعال نے اس بات کی ضمانت کی ہے کہ متقین کو مشکلات سے نجات دے گا اور ان کی پریشانیوں کو عافیت ، چین و سکون میں بدل دے گا نیز اسے وہ طاقت عطا کرے گا کہ وہ مشکلات میں صبر سے کام لے اور شاکر ہو نیز جہاں سے امید نہ ہو وہاں سے اسے روزی عطا کرے گا ۔

انہوں نے یاد دہانی کی: خداوند متعال، فتنے کی گھڑی میں متقین کی نگاہیں روشن کردیتا ہے تاکہ وہ فتنوں کو بخوبی پہچان سکیں ، متقی ان حالات میں آسانی کے ساتھ صحیح اورغلط کا فرق جان لیتا ہے اور اپنے صحیح وظیفہ پرعمل کرتا ہے ۔

آیت الله سیدان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ خداوند متعال متقی انسان کو موت اور قیامت کی مصبیت سے نجات دے گا کہا: تقوا ، تمام مشکلات سے نجات کا وسیلہ ہے ، لہذا ہمارے فائدہ میں ہے کہ ہم متقی رہیں اور تقوے کے راستہ میں تکلفات سے کام نہ لیں ۔ /۹۸۸/ ن ۹۷۱

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬