27 January 2019 - 12:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439619
فونت
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا، شمع امامت کا وہ پروانہ تھیں جنہوں نے امامت اور ولایت کے عشق اور محبت میں اپنے آپ کو جلا دیا اور ہم کو یہ بتا دیا کہ دیکھو امامِ برحق کعبہ کی طرح ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بانی انقلاب اسلامی فرماتے ہیں کہ اصول کافی میں ایک روایت ہے کہ جو معتبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور وہ روایت یہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد 75 دن زندہ رہیں، البتہ ان پر غم و اندوہ کا غلبہ تھا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام انکی خدمت میں آکر تعزیت پیش کیا کرتے تھے اور آئندہ کے بارے میں مسائل نقل کیا کرتے تھے۔ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہےکہ ان پچہتر دنوں کے دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام بہت زیادہ آمدورفت کیا کرتے تھے اور میرا نہیں خیال کہ انبیائے عظام سے ہٹ کر کسی اور کے پاس اس طرح جبرائیل نازل ہوتے رہے ہوں کہ جس میں وہ انکی اولاد پر نازل ہونیوالی مصیبتوں کا ذکر کیا کرتے تھے اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام انہیں لکھا کرتے تھے۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنانا اس دور میں ان کے ماننے والوں کے لئے سب سے زیادہ ضروری اور اہمیت کا باعث ہے۔آج کے دور میں آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ آپ کی حقیقی معرفت کے بعد آپکی سرت کو کو اپنانے کا لطف ہی الگ ہے، انسان کو جب معنویت کا حسول ہو جاتا ہے تو پھر وہ مادیت ست گریز کرتا ہے۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت میں جو اہم ترین چیزیں پائی جاتی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے امامت اور ولایت کے دفاع کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا، ان سخت حالات کے باوجود آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو لوگوں کو اپنے خطبوں کے ذریعہ بتایا۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو ولایت کا فدائی کہا جاتا ہے، کیونکہ آپ نے اپنی مختصر زندگی میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اس طرح دفاع کیا کہ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ثبت ہوگیا۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا، شمع امامت کا وہ پروانہ تھیں جنہوں نے امامت اور ولایت کے عشق اور محبت میں اپنے آپ کو جلا دیا اور ہم کو یہ بتا دیا کہ دیکھو امامِ برحق کعبہ کی طرح ہے۔ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ کعبہ کا طواف کریں نہ کہ کعبہ لوگوں کا طواف کرتا "مَثَلُ الاِمامِ مَثَلُ الْكَعْبَةِ اِذْ تُؤْتى وَ لا تَأْتى"، امام کعبہ کی طرح ہے اس کے پاس جاتے ہیں وہ تمھارے پاس نہیں آتا۔ یہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو نابود کرکے ولایت کو بچایا اور ایک لمحہ بھی ولیّ امر کی اطاعت سے روگردانی نہیں کی۔

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام کی مناسبت سے یہاں پر حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ مدظلہ العالی کی نظر میں اس بی بی دو عالم کے مقام و منزلت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام امام خمینی کے کلام میں:
آپ فرماتے ہیں کہ میں بھی اس عظیم خاتون کی رحلت پر پوری ایرانی عوام اور آپ حضرت کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ ہمیں اس خاندان کو مشعل راہ قرار دینا چاہیئے، ہماری خواتین کو اس خاندان کی خواتین اور ہمارے مرد اس خاندان کے مردوں بلکہ ہم سب کو ان سب سے درس زندگی لینا چاہیئے، کیونکہ انہوں نے مظلومین کی حمایت اور الٰہی قوانین کے احیاء کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی تھیں۔ لہٰذا ہمیں بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کو ان کے لئے وقف کردینا چاہیئے۔ جو شخص تاریخ اسلام سے آگاہ ہے وہ جانتا ہےکہ اس خاندان کے ہرفرد نے ایک الٰہی اور کامل انسان کی طرح ظالموں کے مقابلے میں ملتوں اور مظلوموں کے لئے قیام کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک عورت اور ایک انسان کے لئےجتنے پہلوؤں کا بھی تصور کیا جا سکتا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میں جلوہ گر تھے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اگر مرد ہوتیں تو نبی ہوتیں، ایسی خاتون کہ اگر مرد ہوتیں تو رسول للہ کے مقام پر ہوتیں۔

امام راحل نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایک ایسی خاتون ہیں کہ ہر کسی نے اپنی سوچ کے مطابق ان کے بارے میں کلام کیا ہے، البتہ اس میں وہ حق ادا نہیں کر سکا ہے۔ اہلبیت علیہم السلام سے جو احادیث ہم تک پہنچی ہیں، وہ سامعین کے فہم کے مطابق تھیں اور سمندر کو کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا ہے، اور دوسروں نے جو کچھ کہا ہے کہ وہ ان کے مقام و منزل کی بجائے اپنی سمجھ اور اپنے فہم کے مطابق کہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی خواتین محمد رضا پہلوی کی حکومت اور اس سے منہ موڑ کر حضرت زینب اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فرمانبردار بن گئی ہیں۔ اُس وقت یورپی بناؤ سنگھار کی تابع تھیں لیکن آج مکتب اہل بیت علیہم السلام کی پیروکار ہیں اور اسے پسند کرتی ہیں کہ جو اسلام پسند کرتا ہے اور یہ ایک انقلاب ہے کہ جو ہمارے معاشرے میں بالاترین انقلاب ہے۔ لہٰذا اس انقلاب کی حفاظت کریں۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے۔ تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ معاشرے میں عورت ایک خاص مقام رکھتی ہے کہ اگر مرد سے برتر نہ ہو کم تر نہیں ہے۔

 

بانی انقلاب اسلامی فرماتے ہیں کہ کافی میں ایک روایت ہے کہ جو معتبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور وہ روایت یہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد 75 دن زندہ رہیں، البتہ ان پر غم و اندوہ کا غلبہ تھا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کی خدمت میں آ کرتعزیت پیش کیا کرتے تھے اور آئندہ کے بارے میں مسائل نقل کیا کرتے تھے۔


اس روایت سے ظاہر ہوتا ہےکہ ان پچہتر دنوں کے دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام بہت زیادہ آمدورفت کیا کرتے تھے اور میرا نہیں خیال کہ انبیائے عظام سے ہٹ کر کسی اور کے پاس اس طرح جبرائیل نازل ہوتے رہے ہوں کہ جس میں وہ ان کی اولاد پر نازل ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا کرتے تھے اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام انہیں لکھا کرتے تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے آنے کا مسئلہ کوئی عام اور سادہ مسئلہ نہیں ہے، یہ خیال نہ ہو کہ جبرائیل علیہ السلام ہرکسی پر نازل ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کسی اور پر بھی نازل ہوں، بلکہ یہ اس شخص کی روحانی کیفیت ہے کہ جس پر وہ فرشتہ نازل ہوتا ہے کہ جو روح اعظم ہے۔ یہ مطابقت اولوالعزم انبیاء جیسے رسول اکرم، موسٰی، عیسٰی اور ابراہیم جیسے انبیاء کے ساتھ مطابقت رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ آئمہ معصومین کے بارے میں بھی میں نے نہیں دیکھا ہے کہ اس طرح جبرائیل علیہ السلام ان پرنازل ہوئے ہوں۔ ہمیں فخر ہے کہ صحیفہ فاطمیہ ہماری کتاب ہےکہ جو اللہ تعالٰی کی جانب سے حضرت زہرا مرضیہ سلام اللہ علیہا کو الہام ہوئی ہے۔

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا قائد انقلاب اسلامی کے کلام میں:
1۔ قائد انقلاب اسلامی کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے افسروں اور عہدیداروں سے 1376 شمسی میں ہونیوالی ملاقات میں کہنا تھا کہ روایت کے مطابق تین جمادی الثانی کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا دن ہے۔ میں ایرانی عوام سےدرخواست کرتا ہوں کہ وہ اس دن دکانیں اور کاروباری مراکز کو بند کریں اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا احترام کریں تاکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی برکات سے استفادہ کرسکیں۔


2۔ سیاسی، سماجی اور جہادی پہلوؤں کے لحاظ سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت، ایک نمایاں اور ممتاز شخصیت ہےکہ دنیا کی تمام سیاسی، انقلابی اور جہادی خواتین ان کی اس مختصر اور بامعنی زندگی سے سبق حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ ایک ایسی خاتون تھیں کہ جو انقلاب کے گھر میں پیدا ہوئیں اور اپنی بچپن کی عمر کو والد گرامی کی آغوش میں گزارا کہ جو ایک عظیم اور ناقابل فراموش عالمی جدوجہد میں مصروف تھے۔ اس خاتون نے مکہ کے دوران کی سختیوں کو برداشت کیا، شعب ابی طالب کی مشکلات کو سہا، مختلف قسم کی سختیوں اور پریشانیوں کو تحمل کیا اور جب مدینہ میں ہجرت کی تو ایک ایسے مرد کی زوجیت میں آگئیں کہ جس کی پوری زندگی اللہ کی راہ میں جہاد میں گزری، اور ان گیارہ سالوں کی مشترکہ زندگی کے دوران کوئی دن ایسا نہیں تھا کہ جس دن امیرالمومنین علیہ السلام نے اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے جنگ نہ کی ہو۔

 

بنابریں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی اگرچہ مختصر تھی، تاہم جہاد اور انقلابی کاموں اور تعلیم و تعلم اور نبوت، امامت اور اسلامی نظام کے دفاع سے سرشار تھی، کہ آخرکار انہیں کوششوں کے نتیجے میں شہادت کی منزل پر فائز ہو گئیں۔ یہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جہادی زندگی ہےکہ جو انتہائی عظیم، غیر معمولی اور بےمثال ہے۔ (قائد انقلاب اسلامی کا ایران کی کثیرتعداد خواتین کے اجتماع سے خطاب


3۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مقام کی قدردانی کرنا درحقیقت، ایمان، تقویٰ، علم، ادب، شجاعت، ایثار و قربانی، جہاد شہادت اور ایک کلام میں مکارم اخلاق کی قدردانی ہے کہ جس کے لئے ان کے والد گرامی مبعوث ہوئے تھے۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ کا اپنے بدن کا ٹکڑا کہہ کر تعارف کرواتے ہیں تو وہ دنیا والوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر تم انسانی کرامت اور اسلام کے اخلاق کا جلوہ دیکھنا چاہتے ہو تو مقدس ہستی میں جستجو کرو اور دنیا کی مائیں اس درخشندہ خورشید سے ایک شعاع حاصل کرکے انسانوں کی حیات کے مرکز کو گرم اور روشن کریں۔


4۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کی سادہ زندگی، ہمارے معاشرے کی خواتین کے لئے ایک نمونہ ہے۔ ہم فضول خرچی کو ترک کرکے اپنی زندگی میں کفایت شعاری کو اپنائیں اور حقیر اور چھوٹی چھوٹی آرزووں کو عظیم اقدار پر قربان کردیں کہ جس کا مکمل نمونہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ک جہیز ایک فقیرانہ ترین جہیز تھا کہ جو اس دورمیں لوگوں کے درمیان رائج تھا۔

 

5۔ ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی روحانی تعریف کے میدان میں داخل نہیں ہوتے ہیں لیکن ان کی معمولی زندگی میں ایک اہم نکتہ ہے اور وہ ایک مسلمان عورت کا اپنے شوہر، اپنی اولاد اور گھر میں اپنی ذمہ داریوں اور دوسری جانب ایک مجاہد، غیرت مند خاتون کے عنوان سے سیاسی واقعات سے ٹکر لینے جیسی ذمہ داریوں کے درمیان جمع کرنا ہے۔ آپ مسجد میں آکر اپنے موقف کے دفاع میں بھرپور خطبہ دیتی ہیں اور مشکلات کو برداشت کرتی ہیں۔


6۔ خطاب، حکمت، سیاسی اور سماجی تجزیہ وتحلیل کی قدرت اور مستقبل پر نظر اور اپنے دور کے عظیم ترین مسائل سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے سامنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان عورت اپنی جوانی کے دور میں بھی روحانیت اور عرفان کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔


7۔ مسلمان خواتین کو اپنی ذاتی، سماجی اور گھریلو زندگی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو نمونہ عمل قراردینا چاہیئے۔ انہیں عبادت، جدوجہد اور خانہ داری، عظیم سماجی فیصلوں، شوہر کی خدمت اور نیک اولاد کی تربیت میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی پیروی کرنی چاہیئے۔


8۔ وہ مسلمان خواتین کہ جو آج اس اسلامی نظام میں سنجیدگی، مہربانی اور پاکدامنی اور عفت کے ساتھ درس پڑھ رہی ہیں اور میڈیکل کے شعبے میں کام کر رہی ہیں یا سماجی، علمی اور سیاسی میدانوں میں سرگرم عمل ہیں وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پیروکار شمار ہوتی ہیں، اور میں اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسی خواتین کے عزت واحترام کا قائل ہوں۔/۹۸۹/ف۹

تحریر: سیدہ ایمن نقوی

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬