25 January 2020 - 17:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441995
فونت
ہندوستان میں چھبیس جنوری یوم جمہوریہ سے ایک دن دپہلے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت آگئی ہے دہلی ، لکھنو ، کولکتہ ، بہار، جھارکھنڈ آسام اور ملک کے دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے قومی دارالحکومت دہلی کے اٹھائیس مقامات منجملہ شاہین باغ سمیت ملک کے بہت سے علاقوں میں سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور دھرنے میں شدت آگئی ہے -

ہندوستانی میڈیا کے مطابق آئین ھند کی منظوری کی سالگرہ یعنی چھبیس جنوری یوم جمہوریہ سے قبل سی اے اے کے خلاف جاری آئین بچاؤ تحریک میں سنیچر کو اور زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ مختلف مقامات پر سیکورٹی کو بھی پوری طرح الرٹ کرد یا گیا ہے -

چھبیس جنوری سے قبل لکھنو پولیس نےگھنٹہ گھر پر دھرنے پر بیٹھی خواتین میں سے بعض خواتین کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس نے خواتین کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے مردوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے جو دھرنے پر بیٹھی خواتین کے لئے کھانے پینے کا انتظام کررہے ہیں ۔

ہندوستانی میڈیا میں کہا جارہا ہے کہ سنیچر کو لکھنو کے علاقے حسین آباد کے گھنٹہ گھر کے قریب دھرنے کے مقام پر پولیس اور پیرا ملیٹری فورس کے جوانوں کی تعداد بھی بڑھادی گئی ہے اور فورس کے دستے وہاں گشت کررہے ہیں -

ریاست اترپردیش کے شہر الہ آباد کے روشن باغ میں بھی خواتین کا احتجاج جاری ہے - جبکہ رائے بریلی سے اطلاعات ہیں کہ پولیس نے دھرنے پر بیٹھی خواتین دھرنے کے مقام سے زبردستی ہٹا دیا ہے -

ادھر ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بائیں بازو کی پانچ جماعتوں کے حامیوں نے پٹنہ میں کافی طویل انسانی زنجیر بناکر سی اےاے کے خلاف مظاہرہ کیا مظاہرین نے سی اے اے کو آئین ھند کے خلاف قراردیتے ہوئے کہا یہ ایکٹ ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے اور ہم اس کی پرزور مخالفت کرتے ہیں -

اس درمیان پٹنہ کے ہی سبزی باغ میں پچھلے کئی ہفتے سے خواتین کا دھرنا جاری ہے - اس درمیان سی اے اے کے خلاف گوا میں چرچ اور عیسائی برداری سڑکوں پر اترآئی ہے -

گوا سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے گوا میں چرچ کے منتظمین اور عیسائی براداری سے تعلق رکھنے والوں نے احتجاجی مظاہرہ کرکے کہا کہ جس ملک میں بائیبل، گیتا، قرآن اور گرنتھ کی تعلیمات دی جاتی ہوں وہاں وہ سی اے اے جیسے قانون کی وہ مخالفت کرتے ہیں -

گوا کے چرچ نے مطالبہ کیا سی اے اے اور این آر سی کو واپس لیا جائے - دوسری جانب کیرالا اور پنجاب کے بعد اب ریاست راجستھان کی اسمبلی نے بھی سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف حکومتی بل کو پاس کردیا ہے -

سی اے اے کے خلاف بل پاس کرنے والا راجستھان ملک کا تیسرا صوبہ بن گیا ہے - اس سے پہلے کیرالا اور پنجاب کی بھی ریاستی اسمبلیوں میں سی اے اے کے خلاف بل پاس ہوچکا ہے -

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں منجملہ آسام میں بھی سی اے اے کے خلاف مظاہرے بدستور جاری ہیں طلبا تنظیموں نے اس قانون کے خلاف مورچہ سنبھال رکھا ہے۔/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پرطرفدارترین