‫‫کیٹیگری‬ :
07 April 2020 - 01:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442458
فونت
خدا نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس کا نہ تو انسان کو اندازہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ کبھی ان کا شکریہ ادا کرسکتا ہے وہ بے شمار اورلامتناہی نعمتیں جنھیں خدا نے انسان کو عطا کی ہیں ان عظیم نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت کا نام جوانی ہے ۔

تحریر: حجت الاسلام سید ظفر عباس رضوی
قم المقدسہ ایران 

خدا وند عالم نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس کا نہ تو ہی انسان کو اندازہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ کبھی بھی ان کا شکریہ ادا کر سکتا ہے وہ بے شمار اورلامتناہی نعمتیں جنھیں خدا نے انسان کو عطا کی ہیں انھیں عظیم نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کا نام جوانی ہے ۔

بہت سی ایسی نعمتیں ہیں جب تک وہ انسان کے پاس رہتی ہیں اسے اس کی قدر و منزلت کا احساس اور اندازہ نہیں ہوتا اور جب وہ کھو جاتی ہیں تب احساس ہوتا ہے، جوانی جیسی عظیم نعمت کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ خدا نے اسے کتنی قیمتی نعمت سے نوازا ہے ۔

انسان کی زندگی کے جو مراحل ہیں اگر ہم اس کے بارے میں غورو فکر کریں تو ہم کو پتہ چلے گا کہ جوانی کا مرحلہ کیا ہے، انسان جب چھوٹا اور بچہ ہوتا ہے تب بھی کچھ نہیں کرسکتا ہے اور جب بوڑھا ہوجاتا ہے تب بھی کسی کام کے لائق نہیں ہوتا، لیکن جوانی کا زمانہ وہ ہوتا ہے جس میں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔

اس کے پاس قوت و توانایی، محکم عزم و ارادہ ہوتے ہیں اور وہ جذبات و احساسات سے سرشار اور اس کے خون میں حرارت اور گرمی پائی جاتی ہے، کچھ کردینے کا جذبہ پایا جاتا ہے، اپنے ہدف اور مقصد تک پہونچنے کی انتھک کوشش کرتا ہے، جوانی میں انسان کا دل نرم اور اس کے اندر کسی بھی چیز کو جلدی قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، ایثار و فداکاری اور عفوو بخشش کا زیادہ جذبہ پایا جاتا ہے ۔ 

جوانی میں نیک عمل اور عبادت کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے اور مزہ بھی، جوانی میں انسان کے لئے گناہ کرنے کے مواقع زیادہ فراہم ہوتے ہیں اس لئے کہ اس کے اندر شہوت بھی زیادہ پائی جاتی ہے اسی لئے خدا وند عالم کو بھی جوان کی توبہ اس کی عبادتیں اور اس کے سجدہ بہت زیادہ پسند ہیں کہ وہ اس عمر میں ساری چیزوں کو چھوڑ کے اللہ کو یاد کرتا ہے، تو اس عظیم نعمت سے اور اس فرصت کے زمانہ میں اسے زیادہ سے زیادہ نیک عمل اور توبہ و استغفار کرنا چاہیئے خاص طور سے اس وقت جب پوری دنیا میں ایک ہنگامہ مچا ہوا ہے اور ڈر و خوف پایا جا رہا ہے، ہر انسان کے اوپر موت کا سایہ منڈرا رہا ہے، اور کوئی بھی انسان اپنے کو محفوظ نہیں سمجھ رہا ہے۔ 


احادیث میں جوان اور جوانی کے سلسلہ سے بہت سی فضیلتیں اور خصوصیتیں بیان ہوئی ہیں جن کو اس مختصر سی تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ 


اپنی اس تحریر میں، میں جس چیز کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جوان اور جوانی کی جب اتنی زیادہ فضلتیں اورخصوصیتیں ہیں تو آخر ایک جوان کو کیا کرنا چاہیئے یعنی اس کی زندگی کی سب سے اہم چیز اور سب سے اہم مقصد کیا ہونا چاہیئے؟


امام صادق علیہ السلام نے جوان کے اصل ہدف اور مقصد کو اس طرح سے بیان کیا ہے آپ فرماتے ہیں کہ:
:لست أحب أن أرى الشاب منكم إلا غاديا في حالين: عالما أو متعلما؛ میں جوانوں کو صرف دو حالت میں دیکھنا چاہتا ہوں 1- پڑھنے کی یا 2- پڑھانے کی، یعنی جوان یا علم حاصل کرے یا دوسروں کو سکھائے ۔ (۱)


اس حدیث سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک جوان کے لیے جہاں تک ہو سکے اسے پڑھنے پڑھانے میں مصروف رہنا چاہیئے ایک چیز کو سیکھے اور دوسروں کو بھی سکھائے، نہ یہ کہ جلدی تھک جائے اور ہمت ہار کے مایوس بیٹھ جائے ۔


لیکن عام طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے جوان دوسری چیزوں میں زیادہ شوق اور دلچسپی رکھتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ آخر کب تک پڑھے پڑھایئں گے اس سے بہتر ہے کہ روزی روٹی کے سلسلہ سے کچھ کام دھام کریں محنت و مشقت کریں بزنس کریں تاکہ ہمارے پاس دولت بھی رہے ہمارا نام بھی ہو، ہمارے پاس عزت و شرف ہو، لوگ ہم کو جانیں اور پہچانیں اور ہمارے قصیدے پڑھیں، اسی لئے آج کے اس ترقی یافتہ اور ملٹی میڈیا کے زمانہ میں ہر انسان اپنے کو پہچنوانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ لوگ اس کو جان جایئں، جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے کہ:

"العلم سلطان من وجدہ صال به ومن لم يجده صيل عليه؛ بادشاہت اور حکومت علم کی ہوتی ہے جو علم حاصل کرے گا وہ حکومت و بادشاہت کرے گا اور جو علم حاصل نہیں کرے گا اس کے اوپر حکومت و بادشاہت کی جائے گی"۔ (۲)


ایک جگہ اور حدیث میں ہے کہ: "العلم عز ؛ عزت علم کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے"۔(۳)

دوسری جگہ پہ آیا ہے:
"اكثر الناس قيمة أكثرهم علما و اقل الناس قيمة اقلهم علما ؛ "لوگوں میں سب سے زیادہ قدر و منزلت والا شخص وہ ہے جس کے پاس سب سے زیادہ علم ہے اور سب سے کم قدر و منزلت والا وہ ہے جس کے پاس سب سے کم علم ہے"۔ (۴)

اب اگر ان حدیثوں کے بارے میں غور کیا جائے تو ہم کو پتہ چلے گا کہ ایک جوان کا اصل ہدف اور مقصد تعلیم و تعلم(پڑھنا اورپڑھانا ہونا چاہیئے) جس کے ذریعہ سے اسے ہر چیز مل سکتی ہے اور وہ ہر مقصد اور ہدف تک پہونچ سکتا ہے۔ 


اور ویسے بھی دنیا کا کوئی بھی دانشمند اور اسکالر ہو کتنا بھی پڑھا لکھا ہو اس کی باتیں اور اس کے بتائے ہوئے فارمولے غلط ہو سکتے ہیں لیکن معصومین(ع) کے اقوال اور ان کی بتائی ہوئی باتیں کبھی بھی غلط نہیں ہوسکتی ہیں، اسی لئے اگر معصومین(ع) نے کہہ دیا کہ ترقی، عزت، شرف، کمال، بادشاہت و حکومت بغیر علم کے نہیں حاصل ہونے والی ہیں تو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی ہیں ۔


لہذا ایک جوان کو چاہیئے کہ اپنی جوانی کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے لکھنے اور سیکھنے اور سکھانے میں بسر کرے تاکہ عزت و شرف و کمال تک پہونچ جائے اور حکومت و بادشاہت کر سکے ۔


آخر میں خدا وند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں خاص طور سے جناب علی اکبر(ع) کے صدقہ میں ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنی جوانی سے فائدہ اٹھانے اور اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل انجام دینے کی اور ساتھ ہی ساتھ زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اور تمام مومنین کو ہر طرح کی بلاء و آفت خاص طور سے کرونا جیسی منحوس اورمہلک بیماری سے محفوظ فرمائے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالے:

۱: امالی طوسی، ص 303 ناشر، دارالثقافہ قم
۲: شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ج 20 ص 319 ناشر- مکتبہ آیت اللہ مرعشی نجفی قم
۳: غررالحکم ودررالکلم ص21 ناشر- دارالکتاب الاسلامی قم
۴: من لا یحضرہ الفقیہ ص395 ناشر- دفتر انتشارات اسلامی قم

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬