‫‫کیٹیگری‬ :
23 April 2020 - 12:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442561
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ماہ رمضان میں عبادات اور عزاداری کے پروگراموں کے دوران کورونا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل کر کے اپنے آپ اور دوسروں کو اس جان لیوا مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ رمضان المبارک رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ امت مسلمہ اپنے نفس کی پاکیزگی کے لیے اس ماہ میں عبادات کاخصوصی اہتمام کرتی ہے اس لیے سارا سال اس مقدس ماہ کا انتظار رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بار رمضان المبارک ایسی آزمائش کی گھڑی میں آ رہاہے جس میں ہماری ذمہ داریاں اور واجبات پہلے سے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئے ہیں۔لاک ڈاؤن کے باعث نادار اور مفلس افراد کو گھریلو مشکلات کا سامنا ہے۔ایسے گھرانے جو تنگدستی میں گزر بسر کر رہے ہیں انہیں ضروریات زندگی کی اشیا مہیا کر کے رمضان میں دہرا ثواب کمایا جا سکتا ہے۔ہر صاحب استطاعت کو چاہیے کہ وہ اپنے گرد و نواح میں ایسے گھرانوں کو نظر میں رکھے ۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اس سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط ہے۔ ہمیں باہمی رابطوں میں ان ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے جن کی طبی ماہرین باربار تاکید کر رہے ہیں۔عبادات اور مذہبی رسومات پر عمل ہمارے ایمان کا حصہ ہے تاہم جب انسانی زندگی کو خطرہ ہو تو مذہبی معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لچک اور گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں عبادات اور عزاداری کے پروگراموں کے دوران کورونا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل کر کے اپنے آپ اور دوسروں کو اس جان لیوا مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کورونا سے بچاؤ کے لئے حکومتی اقدامات کی پیروی کو تمام مراجع عظام نے واجب قرار دے رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں ملت تشیع کی کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔رمضان المبارک کے دوران سیکورٹی کے معاملات بھی غیرمعمولی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک کو ایک ہی وقت میں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وطن عزیز میں موجود منفی عناصر شرپسندی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ایسی صورتحال میں سیکورٹی اداروں کو چوکس رہنا ہو گا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬