‫‫کیٹیگری‬ :
11 July 2013 - 13:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5632
فونت
حضرت آیت الله مکارم شیرازی:
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مختلف اسلامی مملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ماہ مبارک رمضان میں جنگ کے روکنے کی تجویز دی، مشکلات میں گھرے ممالک اور مختلف گروپ کو نصیحتیں کی کہ اسلحہ کنارے رکھ کر گفتگو اور مذاکرہ کی میز پر حاضر ہوں ۔
حضرت آيت الله مکارم شيرازي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے ماہ مبارک رمضان کے پہلے دن اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں جو شبستان امام خمینی(ره) حرم کریمہ اهل بیت(ع) حضرت معصومہ(س) قم میں منعقد ہوئی ماہ مبارک رمضان کی مبارک باد پیش کی اور لوگوں سے اس ماہ کے روز و شب سے مکمل استفادہ کی تاکید کی  ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے ماہ مبارک رمضان کے روزے کی اھمیت کا تذکرہ کیا اور کہا: اسلامی احکام کا تین حصہ ہے، اس کا پہلا حصہ عبادت ، دوسرا حصہ معاملات اور تیسرا حصہ اسلام کی سیاست سے متعلق ہے، پروگرام کی دنیا میں اسلام میں کسی قسم کی کمی موجود نہیں ہے ۔ 


انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی احکام کا خاص فلسفہ اور مصلحتیں موجود ہیں کہا: فلسفہ احکام کا ایک حصہ جیسے ظلم نہ کرنا، غبیت نہ کرنا، اور جھوٹ سے پرھیز  واضح و روشن ہے ، کچھ فلسفہ احکام قران کریم میں اور کچھ ائمہ طاھرین کے بیانات میں موجود ہیں اور کچھ اس طرح ہیں کہ اپنے ناچیز اور محدود علم کے باوجود اسے سمجھنے کی خود طاقت رکھتے ہیں ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مزید کہا: ھم جتنا زیادہ فلسفہ احکام کا ادراک کرسکیں گے ھم میں اتنا ہی زیادہ احکام الھی کی پیروی اور اطاعت خداوند متعال کا جزبہ بڑھے گا ۔


حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ کے اس استاد نے ایات قران اور روایات اھلبیت عصمت و طهارت(ع) کی نگاہ میں فلسفہ روز داری کی جانب اشارہ کیا اور ان کی تفسیر کی ۔


انہوں نے  قران کریم کی نگاہ میں تقوی الھی، نفس اور شیطانی وسوسہ پر غلبہ روزہ کا اصلی اور بنیادی فسلفہ جانا اور یاد دہانی کی : معنویتیں جس مقدار میں بھی انسان کے  مستحکم ہوں گی انسان کا درجہ بلند اور وہ ائمہ معصومین(ع) کے ھم رتبہ اور ھم درجہ قرار پائے گا ۔


اس مرجع تقلید نے روزہ اور تقوا الھی کے نزدیکی رابطہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: روزہ میں بھوک و پیاس کا تحمل انسان کو اپنے اندر تقوی کو حیات عطا کرنے اور نفسانی اور شیطانی خواہشات کو کچلنے کا سبب بنتا ہے۔  


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے روزہ اور تقوے کے رابطہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: قران کریم کی ایتوں کے مطابق انسان کا بہترین توشہ اخرت انسان کا تقوی ہے اور متقین سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہونچیں گے ۔


انہوں نے ایت شریفہ «ان اکرمکم عندالله اتقاکم» کی جانب اشارہ کیا اور کہا: روزہ جہاں بارگاہ خداوند متعال میں قربت کا سبب ہے وہیں جنت میں جانے کا وسیلہ بھی ہے  ۔ 


روزہ کے مادی فوائد


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ معنوی فائدہ کے علاوہ روزہ کے مادی فوائد بھی ہیں رسول اسلام سے منقول روایت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: رسول اسلام سے منقول ہے کہ ماہ مبارک رمضان کا روزہ انسان کے بدن کی زکات ہے ۔

 

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے روزہ کے سماجی فوائدہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: امام جعفر صادق(ع) سے مقنول حدیث کے مطابق روزہ و حج انسان کی روح کے سکون کا سبب ہے ، خداوند متعال نے انسانوں پر روزہ واجب کیا تاکہ فقیروں اور امیروں کو برابر کردے ۔


اس مرجع تقلید نے روزہ داروں کو نصحیتیں کرتے ہوئے کہا: ماہ مبارک رمضان میں زیادہ سے زیادہ محروموں اور ناداروں کی مدد کی کوشش کریں ، ماہ مبارک رمضان، ماہ محبت، عطوفت اور احساسات ہے ، لوگ اس ماہ میں گذشتہ کہیں زیادہ نیاز مندوں اور مستضعفوں کی مدد کے درپہ رہیں ۔


مسلح افراد اپنے اسلحہ ایک گوشہ میں ڈال دیں


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مختلف اسلامی ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ماہ مبارک رمضان میں جنگ کے روکنے کی تجویز دی اور مشکلات میں گھرے ممالک اور مختلف گروپ کو نصیحتیں کی کہ اسلحہ کنارے رکھ کر گفتگو اور مذاکرہ کی میز پر حاضر ہوں ۔


انہوں نے بیان کیا: شیطانی وسوسوں کی بناء پر اسلامی ممالک ایک دوسرے کے لئے میدان جنگ بن چکے ہیں جبکہ سامراجی طاقتیں چین و سکون کے ساتھ ہیں ، دشمن نے شام، مصر، بحرین ، پاکستان، عراق اور دیگر ممالک میں اختلاف کی بیج بو کر جنگ کا سما بنا رکھا ہے لھذا ھرگز موقع نہ دیں کہ اسلامی ممالک ویرانہ میں بدل جائیں ۔


 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬