‫‫کیٹیگری‬ :
13 July 2013 - 15:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5638
فونت
تفسیر قران کریم کی نشست میں؛
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اسلامی جمھوریہ ایران میں مذھبی اقلیت کو دباو میں ہونے کے سلسلہ سے مغربی ممالک کے دعوے کو بے بنیاد اور غلط جانا اور کہا: ایران میں مذھبی اقلیت، من جملہ یھود و نصاری صلح آمیز زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے حقوق محترم شمار کئے جاتے ہیں ۔
حضرت آيت الله مکارم شيرازي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے ماہ مبارک رمضان کے چوتھے روز اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں جو شبستان امام خمینی(ره) حرم کریمہ اهل بیت حضرت معصومہ قم (س) میں منعقد ہوئی سورہ احزاب کی 26 اور 27  آیات کی تفسیر میں کہا: بنی قریظہ، حضرت رسول اسلام(ص) سے اپنا پیمان توڑ کر اسلام کے دشمنوں سے جا ملے ۔
 

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ دو آیتیں بنی قریظہ کی تقدیر کی بیانگر ہیں کہا: ان لوگوں نے جنگ احزاب میں لشکر کفر کی حمایت کی مگر خدا کی عنایتوں اور لشکر احزاب کی ہار پر خود بھی پھنس گئے ، جنگی جنایت کار قتل کردئے گئے اور فروان مال غنیمت لشکر اسلام کے درمیان تقسیم کردیا گیا ۔


انہوں نے فرمایا: اسلام کی پانچ جنگوں میں خداوند متعال نے خوف و وحشت کے نامرئی لشکر مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجے کہ جنگ بنی قریضہ ان میں سے ایک جنگ ہے ۔


اس مرجع تقلید نے کہا: ھمیشہ اسلامی ممالک میں مذھبی اقلیت کے پیرو زندگی بسر کرتے رہے ہیں، اھل ذمہ کے عنوان سے یھود و نصاری کا مسلمانان سے اچھا رابطہ رہا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی زندگی صلح امیز رہی ہے، وہ اپنے مذھبی ائین کی انجام دہی میں مختار و ازاد رہے ہیں ، ان کی جان و مال و ناموس محفوظ رہی ہے ، حتی ایران کی پارلیمنٹ میں ان کے نمائندے بھی موجود ہیں ۔     


انہوں نے مزید کہا: اس وقت ایران میں مذھبی اقلیت کے لوگ موجود ہیں اور دشمن کے پروپگنڈے کے بر خلاف وہ کسی قسم کی مشکلات سے روبرو نہیں ہیں، ھم نے اج تک نہیں سنا کہ کسی مسلمان نے یھودی، عیسائی یا زرتشتی کو ستایا ہو بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح امیز زندگی بسر کر رہے ہیں ۔


انہوں نے صھیونیسیم کے مسائل مذھبی اقلیت سے الگ جانا اور کہا: صھیونیسیم نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھا رکھی ہے ، مسلمانوں کے قبلہ اول کو غصب کر رکھا ہے اور عالم اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں لھذا ھم ھرگز انہیں دیگر مذھبی اقلیت کی طرح شمار نہیں کرتے ۔
 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬