‫‫کیٹیگری‬ :
05 August 2013 - 16:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5763
فونت
آیت ‌الله مصباح یزدی:
رسا نیوز ایجنسی - حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے مشھور استاد نے قیامت پر اعتقاد کو تمام ادیان کے اصولوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: گناہوں اور جنایتوں کا سرچشمہ دنیا سے دلبستگی ہے، دنیا انسانوں کی آزمائش کا وسیلہ ہے ۔
آيت الله مصباح يزدي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد آیت ‌الله محمد تقی مصباح یزدی نے گذشتہ شب، حسینیہ حضرت امام خمینی دفتر رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران قم میں اپنی سلسلہ وار اخلاقی نشست میں جو سیکڑوں روزہ داروں کی شرکت میں منعقد ہوئی تاکید کی : اخروی نعمتوں کے مقابل، دنیاوی اور مادی حیات کی لذتوں کی کوئی حیثیت نہیں اور اسی بناء پر قیامت پر اعتقاد تمام ادیان کے اھم اصولوں میں شمار کیا گیا ہے ۔


حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد نے انسانوں کی تربیت میں قران کریم اور اہل بیت (ع) کے طریقہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اہل بیت اطھار(ع) کے تمام اصول قیامت کے عقیدہ پر مبنی و استوار رہے ہیں ۔


گناہوں اور جنایتوں کا سرچشمہ دنیا سے دلبستگی ہے


آیت ‌الله مصباح یزدی نے کہا: اگر خداوند متعال نے قران میں قیامت اور جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی عقل و فکر کے ذریعہ بہترین نعمتوں کا ادراک کرسکے اور دنیا کی زود گذر اور فانی لذتوں سے دل نہ لگائے ۔


انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ بہت سارے غم اور جنایتیں اس بناء پر ہیں کہ انسان نے دنیا سے اپنی لَو لگا رکھی ہے کہا: انسان کی حیات میں اس کے دوش پر کچھ وظائف ہیں جو خداوند متعال کی جانب سے اس کے دوش پر رکھے گئے ہیں جسے انسان مد نظر رکھے ۔


ایران کے اس شیعہ عالم دین نے کہا: امیرالمومنین علی(ع) نے دنیا کے سلسلہ میں فرمایا کہ  « میری نگاہ میں اس دنیا کی حیثیت کوڑھی انسان کے ہاتھوں میں مرے ہوئے سور کی ہڈی سے کہیں کم ہے » ، اگر چہ اس کا مطلب ھرگز یہ نہیں کہ دنیا میں کچھ بھی انجام نہ دیا جائے کیوں کہ معصوم بھی دنیا میں کام کیا کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ھرگز دنیا سے اپنا دل نہ لگائے ۔ 


دنیا انسانوں کی آزمائش کا وسیلہ


امام خمینی(ره) ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر کے چئرمین نے کہا: حلال رزق کمانا خدا کے احکامات میں سے ہیں جسے اپنے وظیفہ کے طور پر انجام دیا جائے ۔


آیت ‌الله مصباح یزدی نے کہا: یہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں کی خدا کے نزدیک کوئی اھمیت نہیں ہے وگرنہ ھرگز وہ کافروں کو نہ دیتا، جبکہ کفار بھی اس دنیا سے مستفید ہو رہے ہیں اور فراوان نعمتیں ان کے اختیار میں ہیں بلکہ یہ دنیا فقط انسانوں کے لئے امتحان کی منزل ہے  ۔


جس کے پاس بھی خدا جیسا حبیب نہیں غریب ہے


انہوں ںے کہا: خداوند متعال نے حضرت موسی(ع) سے خطاب میں کہا کہ وہ جَو کی روٹی جو تمھاری بھوک مٹا دے ، وہ کپڑا جو تمھیں چھپا دے اسی پر قانع رہو، اور اگر تم نے دیکھا کہ دنیا نے تمھاری جانب رخ کیا ہے تو جان لو کہ یہ کسی گناہ کی سزا ہے ، اور خدا کا خوف رکھو، اور اگر دنیا نے تم سے رخ موڑ لیا اور مشکلات میں پھنس گئے تو جان لو کہ خداوند متعال تمھارا خیر خواہ ہے اور ای موسی ھرگز فرعون کی ظاھری اور مادی طاقت کا خوف نہ کرو ۔


حوزہ علمیہ قم کے اس نامور استاد نے مزید کہا: اس حدیث قدسی میں خداوند متعال نے اپنے پیغمبر سے خطاب میں کہا کہ حقیقی فقیر وہ ہے جس کی مجھ جیسا کفالت کرنے والا نہ ، مریض وہ  ہے جس کا مجھ جیسا طبیب نہ ہو، غریب وہ ہے جس کا مجھ جیسا حبیب نہ ہو ۔


آیت ‌الله مصباح یزدی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی احادیث کے مطابق، شب اول قبر، برزخ اور دوزخ کا عذاب دنیاوی مادیات کو ہاتھوں سے کھو دینے سے کہیں زیادہ ہے کہا: انسان غور کرے کہ کس چیز کو اس نے کھویا اور اس کے بدلے اسے کیا ملا ، ان دونوں کے درمیان مقایسہ کر کے صبر کے ۔


دنیا کی مصیبتوں اور اخرت کی جزاء کے مابین مقایسہ ضروری


انہوں نے مصیبتوں پر صبر ضروری جانا اور کہا: اگر انسان مشکلات میں بے تابی کرے اور بے جا داد وفریاد کرے تو اس کا ثواب کم ہو جائے گا ، اطاعت میں صبر کے بھی یہی اثار ہیں ،  خداوند متعال اتنا زیادہ اسے ثواب دے گا کہ دنیا میں کوئی بھی اس کا اندازہ نہیں کرسکتا ۔


امام خمینی(ره) ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر کے چئرمین نے کہا: دنیا میں مشکلات اور اطاعت میں صبر اگر چہ انسانوں کو سختیوں سے روبرو کرتا ہے مگر یہ خود خوشی کا پیغام ہے اور عظیم ثواب کا حامل ہے ۔


انہوں ںے یاد دہانی کی : اگر ادمی خدا کی رضایت کو اپنی حیات کا منشور قرار دے تو سعادت کے راستوں پر چل کر کمال کی منزل تک پہونچ جائے گیا ، کیوں کہ  فقط یہی راستہ انسان کے لئے سازندہ اور اموزندہ ہے ۔


اخرت کے بدلے دنیاوی لذتیں بے سود ہیں


آیت ‌الله مصباح یزدی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ انسان ھرگناہ میں لذتوں کے حصول کے درپہ ہے کہا: اخرت کے بدلے دنیاوی لذتیں بے سود ہیں کہ انسان دائمی اور اخروی لذت کو دنیاوی لذت کی وجہ سے کھو دے  ۔


انہوں نے بیان کیا: رات و دن انسان کے ذھن میں یہ بات رہے کہ گناہ کے بدلے انسان نے کیا کھویا اور کیا پایا، غور و فکر کے ذریعہ ایک نتیجہ تک پہونچے ، کیوں کہ گناہ نہ فقط اس کے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ اس کے تمام ذخیرہ کو ختم کردے گا ۔


حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد نے اطاعتوں میں صبر مومنین کا خاصہ جانا اور کہا: کوئی بھی نہیں جانتا کہ خداوند متعال نے ادھی راتوں میں عبادت کرنے والے کے لئے کیا چیز نگاہ میں رکھی ہے ، لھذا انسان دنیا میں ایک گھنٹہ زیادہ سونے اور اخرت کا عظیم ثواب ہاتھوں سے کھوے دینے کے مابین مقایسہ کرے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬