27 September 2016 - 20:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423487
فونت
بہرام قاسمی:
جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا : شام کے بارے میں کوئی بھی راہ حل ایران کے بغیر ممکن نہیں ۔
بہرام قاسمی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے صحافیوں سے گفتگو میں سعودی عرب کے حکام کو نصیحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود صدام معدوم کے پاؤں پر پاؤں رکھنے کی کوشش نہ کریں ، اور امریکی حمایت پر حد سے زیادہ مغرور نہ ہوں۔

انہوں نے ایران کے شام کے سلسلہ میں موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : شام کے بارے میں ایران کا موقف اٹل اور فیصلہ کن ہے شامی بحران کا راہ حل مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا : شام کے بارے میں کوئی بھی راہ حل ایران کے بغیر ممکن نہیں اور شام کا راہ حل بھی مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

بہرام قاسمی نے ایران اور مصر کے وزراء خارجہ کی ملاقات پر سعودی عرب کی برہمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : سعودی عرب کی ایران کے خلاف معاندانہ پالیسیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے یمن پر سعودی عرب کی فوجی یلغار اور وحشیانہ بمباری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : سعودی عرب نے تمام انسانی و ملکی قانون کو زیر پا روندتے ہوئے ایک مستقل ملک پر حملہ کرکے اس ملک کے بے گناہ عام شہریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔ جس کا جواب اس کو دینا پڑے گا ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ترجمان نے کہا : سعودی عرب کے حکام کو صدام جیسے افراد کی سرنوشت سے سبق سیکھنا چاہیے اور سعودی حکام کو صدام کے پاؤں پر پاؤں رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بہرام قاسمی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : سعودی عرب در حقیقت علاقائی  ممالک میں اپنی شکست کو چھپانے کے لئے ایران کے خلاف بےبنیاد الزامات عائد کررہا ہے جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ خطے میں اور عالمی سطح پر جاری دہشت گردی کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے اور سعودی عرب کو اپنے سنگین اور بہیمانہ جرائم کا تاوان ادا کرنا پڑےگا۔

واضح رہے کہ آل سعود و یھود گزشتہ کئی برسوں سے مسلمانوں کے خلاف اپنی عنادانہ رویہ پوشیدہ طور پر انجام دے رہا تھا مگر جب سے اسرائیل کا مفاد خطرے میں پڑنے لگا ہے تو آل سعود نے اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے اپنے اجداد کو تحفظ فراھم کرنے کے لئے مسلمانوں کا قتل عام کرنے میں گریز نہیں کر رہا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۴۲۹/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬