27 September 2016 - 21:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423494
فونت
علی اکبر صالحی:
ایران کی ایٹمی انرجی کے ادارے کے سربراہ نے کہا : : روس اور ایران آئندہ ، اسٹبل آئسوٹوپ کے پروجیکٹ میں تعاون کریں گے جو کہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے۔
ڈاکٹر علی اکبر صالحی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی ایٹمی انرجی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ویانا میں روس ایٹم کمپنی کے سربراہ سرگئی کرینکو، امریکہ کے وزیر انرجی ارنسٹ مونیز اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو سے اپنی ملاقاتوں کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔

علی اکبرصالحی نے روس ایٹم کمپنی کے سربراہ سے ملاقات میں کہا : روس کے ساتھ ہمارے تعلقات اسٹریٹیجک ہیں۔

علی اکبر صالحی نے کہا : روس نے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر میں ایران کے ساتھ تعاون کیا ہے اور دو دیگر ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں بھی روس کے ساتھ تعمیری مذاکرات انجام پا چکے ہیں۔

ایران کی ایٹمی انرجی کے ادارے کے سربراہ نے کہا : روس اور ایران آئندہ ، اسٹبل آئسوٹوپ کے پروجیکٹ میں تعاون کریں گے جو کہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے۔

اس ملاقات میں روس ایٹم کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ایران سے بھیجا ہوا اڑتیس ٹن بھاری پانی، روس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ بھاری پانی ایران نے گذشتہ ہفتے روس روانہ کیا تھا۔

علی اکبر صالحی نے کہا : مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے آٹھ مہینے بعد بھاری پانی کا روس بھیجا جانا ایک بڑی کامیابی شمار ہوتا ہے۔

علی اکبر صالحی نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو سے اپنی ملاقات میں ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں حتمی فیصلے تک پہنچنے اور ایران میں انجام پانے والے ایٹمی مراکز کے معائنوں کے بارے میں گفتگو کی۔

علی اکبرصالحی نے امریکہ کے وزیرانرجی ارنسٹ مونیز سے ملاقات میں پابندیوں اور تکنیکی مسائل پر گفتگو کی۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬