‫‫کیٹیگری‬ :
01 October 2016 - 12:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423574
فونت
آیت الله حسینی بوشهری:
سرزمین ایران کے مشھور و معروف شیعہ عالم دین آیت الله حسینی بوشهری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عزاداری امام حسین کا روشن پیغام ستمگروں سے مقابلہ ہے کہا: ہمارے عزاداری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ذوق و شوق کے ساتھ تحریک حسين بن علي(ع) علیھما السلام کو ادامہ دے رہے ہیں ۔
آیت الله حسینی بوشهری

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی بوشھر سے رپورٹ کے مطابق، آيت الله سید هاشم حسينی بوشهری نے گذشتہ شب پيرغلامان و خادمان حسينی کے اجلاس میں جو شهر كنگان میں منعقد ہوا ، حماسہ حسینی کی عظمت و بلندی کی جانب اشارہ کیا اور کہا: حادثہ کربلا کو 1400 سال گذرجانے کے بعد بھی کیوں آج بھی اهل بيت(ع) کے ارادتمند افراد عزاداری کے سیاہ پرچم نصب کرتے ہیں ، مگر کیا ہوا ہے کہ یہ ہر سال اس عمل کی تکرار کی جاتی ہے ، مرد و عورت ،  بچے ، بوڑھے و جوان سب کے سب عزاداری میں مصروف ہوجاتے ہیں ، کیا مجلسوں کے بجائے تقریروں کی نشستیں نہیں رکھی جاسکتیں ؟

مجلس خبرگان رهبر میں صوبہ بوشھر کے نمائندے نے مزید کہا: حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ حوادث کا مستقبل کے معاشرے میں بنیادی کردار ہے ، عاشوراء جیسا حادثہ کہ جو تاریخ اسلام اور بشریت کا اہم ترین سانحہ ہے ، یقینا حال و ماضی کی تقدیر میں موثر ہے ۔

مدرسين حوزه علميه قم کونسل کے رکن نے کہا: ہمارے ائمہ نے سانحہ عاشوراء کے احیاء کے حوالے سے جو احکامات دئے ہیں وہ عجیب و غریب ہیں ، انہوں نے حکم دیا ہے کہ مجلس حسين بن علي علیھما السلام میں آنسو بہاو اور شعراء اشعار خوانی کریں ، یہ حکم کوئی معمولی حکم نہیں ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: امام حسين(ع) کی عزاداری کا ایک اور روشن پیغام ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر اس دن ہم امام حسین علیہ السلام کی مدد کے لئے کربلا میں نہیں تھے تو آج اپنی فریادوں ، مرثیہ خوانی اور عزاداری کے ذریعہ ظالموں اور ستمگروں پر لعنت بھیجتے ہیں ۔

آیت الله حسینی بوشهری نے عزداری کے دیگر روشن پیغام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ظالم اور ستمگروں سے مقابلہ بتایا اور کہا: ہمارے عزاداری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ذوق و شوق ہے ساتھ  تحریک حسين بن علی(ع) علیھما السلام کو ادامہ دے رہے ہیں ۔

مجلس خبرگان رهبر میں صوبہ بوشھر کے نمائندے نے کہا: اهل بيت(ع) کی عزاداری میں سانحہ عاشوراء میں پوشیدہ بنیادی نکات پر مقررین ، مرثیہ خواں اور نوحہ خواں افراد  توجہ کریں ۔

انہوں نے اس میں پنہان پہلے نکتہ کو عاشوراء و ائمہ اطهار(ع) کی شناخت جانا اور کہا: اپنے اشعار میں لوگوں کے دلوں میں معرفت اهل بيت(ع) بڑھانے کی کوشش کریں نیز لوگوں کے دلوں میں محبت اهل بيت(ع) کا احیاء کریں اور سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری زندگی حسینی رنگ و روپ میں ڈھل جائے  ۔

قم کے امام جمعہ نے مزید کہا: اگر ہم وفائے عھد کی باتیں کریں اور خود میری حیات میں وفائے عھد کی باتیں نہ ہوں ، ام البنين(س) کا تذکرہ کریں کہ آپ نے اپنے وقت کے امام کی پیروی اور اطاعت کی مگر خود ہم اپنے امام زمانہ(عج) کی پیروی نہ کریں تو پھر یہ مجلسیں بے سود ہیں ۔

انہوں نے کہا: ہم آج دشمنوں کے مقابل ایک امام اور پیشوا رکھتے ہیں اور حضرت آيت الله خامنہ ای آج کی کربلا کے امام و پیشوا ہیں ۔

آیت الله حسینی بوشهری نے مزید کہا: مقررین ، مرثیہ خواں اور نوحہ خواں افراد جس طرح عترت پر تکیہ کرتے ہیں اسی طرح اپنی مجلسوں اور محفلوں میں قران کریم پر بھی تکیہ کریں ۔

مدرسين حوزه علميه قم کونسل کے رکن نے آخر میں کہا: عشرہ محرم کے بعد دینی معرفت میں اضافہ ہونا چاہئے اور احساس ہو کہ ہماری زندگی اهل بيت(ع) کے طرز حیات میں ڈھل گئی ہے ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۶۶۳

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬