02 October 2016 - 16:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423588
فونت
جواد ظریف :
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے بیان کیا : ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے داعش اور دہشت گردی کے خلاف استقامت سے کام لیا ہے ۔
محمد جواد ظریف

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنی ایک گفت و گو میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے علاقے میں دہشت گردی سے مقابلے میں اہم رول ادا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : اسلامی جمہوریہ ایران نے خود پر ظالمانہ بیجا دباؤ کے مقابلے میں سینتیس برس تک استقامت کا مظاہرہ کیا اور ہمارا ملک اول انقلاب اسلامی سے ایک امن پسند ملک ہے۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے داعش اور دہشت گردی کے خلاف استقامت سے کام لیا ہے اس لئے ایران سے تعلقات رکھنا، سب کے لئے قابل فخر بات ہونی چاہئے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : کسی بھی ملک کو کسی بھی بنا پر یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے کسی بھی طرح کا شرط اور شروط کا تعین کرے اور ایران علاقے میں ایک آزاد و خود مختار ملک ہے۔

جواد ظریف نے اپنی گفت و گو میں تاکید کرتے ہوئے کہا : ایران علاقے میں دہشت گردی سے مقابلے کی راہ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی اور اس کی بد عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا : مذاکرات میں شامل تمام ممالک کو چاہیئے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اس طرح ملت ایران کو مکمل طور پر اس کا حق حاصل ہوسکے۔

محمد جواد ظریف ایران کے وزیر خارجہ نے اسی طرح کینیڈا کے ساتھ تعلقات کی سطح کے بارے میں کہا : کینیڈا کے وزیر خارجہ کے ساتھ خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی تاہم اسلامی جمہوریہ ایران کے کچھ مطالبات ہیں جن کے بارے میں مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور پانچ اور ایک ممالک کے درمیان ایک طویل عرصہ تک معاھدہ کے لئے میٹینگ ہوئی اور اس معاھدہ میں شامل تمام ممالک کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر ایران نے اپنے وعدے پر مکمل طور سے عمل کیا لیکن دوسرے ممالک خاص کر امریکا نے اپنے تمام وعدے کو پورا کرنے سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے اور مختلف بہانہ تراش رہا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۴۳۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬