‫‫کیٹیگری‬ :
19 October 2016 - 12:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423922
فونت
علمائے بحرین کا انتباہ؛
علمائے بحرین نے امام حسین(ع) سے ٹکرانے والے حکمرانوں کی عاقبت کی جانب اشارہ کرتے آل خلیفہ کو شعائر حسینی سے ٹکرانے کے نتیجے کی جانب متوجہ کرایا ۔
علمائے بحرین

رسا نیوز ایجنسی کی اللؤلؤه سے رپورٹ کے مطابق، بحرین کے شیعہ علماء نے اپنے صادر کردہ پیغام میں آل خلیفہ کارندوں کی جانب سے خطباء کرام کو اذیت و آزار دئے جانے پر شدید تنقید کی اور گرفتار شدہ خطباء کی فوری آزادی کا مطالبہ کیا ۔

اس پیغام میں آیا ہے : مکمل شفاف اور روشن ہے کہ حکومت خلیفہ ایک بنے بنائے پروگرام کے تحت بحرینی شیعوں پر دباو بڑھانے میں مصروف ہے ، گذشتہ برس اس حکومت نے بعض مقررین کو مساجد اور امام بارگاہوں میں بعض بیانات کی بنیاد پر احضار کیا تھا مگر امسال خطباء کو دینی اور مذھبی باتیں بیان کرنے پر احضار کیا گیا ہے ۔

علمائے بحرین نے مزید کہا: شیعہ مقررین کو واقعات عاشوار بیان کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا جب کہ تمام مسلمان رسول اسلام (ص) کے نواسے حضرت امام حسین (ع) کے خلاف یزید کی اس حرکت کی مذمت کرتے ہیں ۔

انہوں نے واضح طور سے کہا: ھزاروں سے سال سے مختلف ممالک اور دنیا کے مختلف گوشے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجلسیں برپا کی جاتی رہی ہیں اور اس میں دنیا کے مشھور و معروف مذاھب کے ماننے والے شرکت کرتے رہے ہیں ، بحرین میں بھی یہ مجلسیں تمام شھریوں کی ھماھنگی اور اتحاد کے ساتھ ہوتی آئی ہیں لھذا کسی کو بھی اس کے خلاف اقدامات کرنے کا حق نہیں ہے ۔

بحرین کے شیعہ علماء کے گروپ نے امام حسین(ع) سے ٹکرانے والے حکمرانوں کی عاقبت کی جانب اشارہ کرتے کہا: حکومت کی اُس عوام سے دشمنی جو اپنے عادلانہ حقوق کی طلب کار ہے اور اس کا شعائر حسینی سے ٹکرانا ایک قبائلی ظلم و ستم کا مصداق ہے کہ جس کا نتیجہ پشیمانی اور شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔

اس پیغام کے آخر میں آیا ہے : حکومت قبائلی ظلم و ستم کو لگام دیتے ہوئے شیعہ مقررین کو فوری آزاد کرے اور جلد از جلد اس ملک سے سیاسی بحران کو خاتمہ دے ۔/۹۸۸/

۹۳۰/ک۳۷۶

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬